Friday, December 23, 2016

اپنی عزت اپنے ہاتھ

کسی رسالے میں پڑھی ایک پُرانی کہانی اب بھی یاد ہے، دولڑکے ہاسٹل میں روم میٹ تھے، ایک دن ان کے کمرے میں چوہا گُھس آیا۔۔۔۔۔
دونوں کو شرارت سوجھی کہ کیوں نہ چوہے کو تنگ کیا جائے، دروازہ بند کردیا، کمرے میں صرف چارپائیاں موجود تھیں، انھیں درمیان میں کھڑا کردیا گیا اور پھر دونوں نے اُسے ستانا شروع کردیا۔۔۔۔۔۔
اس کے کے پیچھے بھاگتے، اُسے گھیرتے اورپھر قہقہے لگاتے جاتے ۔۔۔۔۔۔
چوہا بیچارہ پریشان کہ نہ باہرجانے کا راستہ، نہ بچنے کا کوئی اور طریقہ۔۔۔۔۔۔
بھاگتے بھاگتے بالکل نڈھال ہوگیا اور اب اُس سے بھاگا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں دوست اس کو دیوار کے ساتھ گھیر کر کھڑے ہوگئے۔۔۔۔۔
چوہے میں بھاگنے کی ہمت تو نہ تھی اورپھر اُس نے آخری حربہ استعمال کیا، پنجوں کے بَل کھڑا ہوگیا اور غُرانا سا شروع ہوگیا۔۔۔۔۔۔
پہلے تو دوست مذاق سمجھے لیکن پھر انہیں ایسے لگا کہ یہ ان پر حملہ کردے گا۔۔۔۔۔۔
فوراً دروازہ کھولا اور اُسے کمرے سے نکال دیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہا کتنا بے ضرر جانور ہے لیکن جب اُسے حدسے زیادہ زِچ کیا گیا اور ستایا گیا تو وہ بھی ردِ عمل کے لیے تیار ہوگیا۔۔۔۔۔۔
ہمارے اردگرد کتنے ایسے لوگ ہیں جوہمارے ماتحت ہوتے ہیں چاہے گھر ہو یا دفتر۔۔۔۔۔۔
ایک تو طریقہ یہ ہے کہ ان سے محبت سے پیش آیا جائے اور ان پر بلاوجہ رعب نہ ڈالا جائے، بلاوجہ سختی نہ کی جائے۔۔۔۔۔۔
نہ ہی انھیں اتنا زِچ کیا جائے کہ انھیں بالکل دیوار سے ہی لگا دیا جائے۔۔۔۔۔۔
جوشخص دیوارسے لگا دیا جائے اُس کا ردِ عمل منفی اوراُبال والا بھی آسکتا ہے۔۔۔۔۔۔
ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہے، اختیارات کے پیچھے اُس کی برداشت کی حدود کو پامال نہ کیا جائے۔۔۔۔۔
اگر بالفرض وہ ردِ عمل نہیں بھی دیتا لیکن اُس کی مظلومیت اور آہ عرش ہلاسکتی ہے، دنیامیں بھی پکڑ ہوسکتی ہے اور آخرت کا عذاب تو ویسے ہی بہت بڑا ہے۔۔۔۔۔
اپنے ماتحتوں سے اچھا سلوک کریں، توازن کے ساتھ کہتا ہوں، یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ آپ کی بات ماننا ہی چھوڑ دیں یا کام صحیح نہ کریں۔۔۔۔۔۔
گھرہو یا کوئی بھی جگہ، سکون کی بنیاد اس فارمولے پر ہے کہ محبت اورتادیب میں توازن ہواوربلاوجہ سختی کا عنصرمنفی کردیا جائے اور کسی کا مذاق اُڑانا تو بہت ہی گھٹیا طرزِ عمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, December 16, 2016

مرچی والا پراٹھا




تربیتی نشست کے دوران ٹھیک ایک بجے لنچ بریک ہوتی ہے ۔وہ اِسی سال کی اُنتیس جولائی تھی ۔ایک بجے بریک کے بعد جائزہ لیا تو ابھی لنچ شروع ہونے میں پانچ دس منٹ باقی تھے ۔
عجیب قدموں کا ساتھ ہے کہ اکثر خواہ مخواہ کسی سِمت میں چل پڑتے ہیں ۔وقت اور ماحول کے تقاضوں سے انجان قدم اُس دِن بھی خواہ مخواہ چُپکے سے ایک سمت چل پڑے۔
زیادہ نہیں چلنا پڑا۔محض چند قدم دُور ہی دیوار کے سائے میں ایک پُراسرار سایہ بیٹھا دِکھائی دیا ۔تھوڑا قریب گیا تو پتا چلا کہ ایک مزدور ہے اور اُس کی بھی لنچ بریک چل رہی ہے ۔وہ ننگی زمین پر بیٹھا تھا ۔ اُس کے دائیں پاؤں کے ساتھ ایک شاپنگ بیگ بچھا ہوا تھا اور اُس شاپر پر اُس دِن کے مینو کے مطابق کھانا دھرا تھا۔
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیسی بدیسی شاید ہی کوئی ڈِش ہو گی جو نظر سے نہ گُزری ہو ۔ نیلے کالر سے سفید کالر تک کے سفر میں مُلین سے مُرغن تک ہر بھوجن پر ہاتھ صاف کیا ۔
لیکن وہ ڈِش میرے لیے امتحان بن گئی ۔
چار و نا چار اُس غیر اہم پُرزے کو بھی سلام کرنا پڑا۔

السلام علیکم !!
وعلیکم السلام !!
(عجیب بد تمیز آدمی تھا ۔سلام کا جواب دیتے ہوئے سر بھی نہیں اُٹھایا)
کیا حال ہے بھائی !!
کرم ہے اللہ کا !!
اُس نے لقمہ سلیقے سے توڑتے ہوئے جواب دیا ۔
کیا کھا رہے ہو ؟؟
کھانا کھا رہا ہوں !!
بھائی وہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ کھانا ہی کھا رہے ہو ۔بجری تو بہت دُور پڑی ہے !!
میرا مطلب ہے کہ کھانے میں کیا ہے ؟؟
اُس نے پہلی بار سر اُٹھایا۔ اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی لیکن چہرے پر بشاشت ، تازگی اور اعتماد کا راج تھا ۔
پراٹھا ہے اور اُس پر لال مِرچیں ہیں !!
میں پنجوں کے بَل اُس کے پہلو میں بیٹھ گیا ۔
صرف ایک پراٹھا اور اُس پر مِرچیں !!
کیا اِس غذا سے تمھیں اتنی طاقت مِل جاتی ہے جو اِتنی سخت مزدوری کر رہے ہو ؟؟
صاحب یہ خوراک تو بس ایک بہانہ ہے طاقت اور ہمت تو کہیں اور سے آتی ہے ۔

اُف اس قوم کا کیا بنے گا جہاں دیکھو فلسفہ اُبل رہا ہے ۔میں نے دِل ہی دِل میں سوچا اور ڈائننگ ہال کا رُخ کیا کہ صبح گھر سے ناشتہ کیے بغیر نکلا تھا اور مزید تاخیر سے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے تھے ۔

لنچ باکس میں پانچ کے قریب آئٹم تھے اور تمام ہی میرے من پسند ۔شاید وہ پہلا لمحہ ہی تھا جب مُجھے اُس کا خیال آیا کہ لنچ باکس لے کر اُس کے پاس چلا جاتا ہوں اور اکھٹے لنچ کر لیتے ہیں ۔اگلے ہی لمحے خیال آیا کہ کون سے میرے فیس بُک فین یہ سب دیکھ رہے ہیں اور ویسے بھی کہانی تو مُجھے مِل ہی چُکی ہے ۔

لیکن وہ جو اُسے ایک روٹی پر لگی نِری مرچوں سے طاقت اور ہمت دیتا ہے ،اُس کے ہاں ابھی کہانی ادھوری تھی ۔
شام چار بجے چھٹی کے بعد سوچا ایک “تاہ ” اور کرتا چلوں ۔
وہ اپنے اوزار سمیٹ رہا تھا۔
ایک کونے میں پوزیشن لیتے ہوئے میں نے پُوچھا چُھٹی کر رہے ہو ؟؟
نہیں !! اگلے دِن کی چال بنا رہا ہوں ۔
پاس ہی دیوار کے ایک کھانچے پر اُس کے دِن کے لنچ سے بچا ایک پراٹھے کا ٹکڑا پڑا تھا جس پر درمیانی جسامت والے کالے چیونٹوں نے دھاوا بول رکھا تھا ۔
بے اختیار میرے چہرے پر مُسکراہٹ پھیل گئی ۔ بڑا فلسفہ بگھار رہا تھا ۔ آخر ہمت جواب دے گئی ہو گی ۔نری مرچیں اور وہ بھی لال !!

بھلا کوئی انسان کھا سکتا ہے ؟؟
ناراض نہ ہونا ایک بات کہوں ؟؟

جی صاحب اُس نے دوستانہ انداز میں مُسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

وہ بھلے نری مرچ ہی کیوں نہ ہو یا سادہ کچا پکا پراٹھا !! بہرحال رزق ہے اور رزق کی بے حرمتی اللہ کو سخت نا پسند ہے ۔تمھیں پُورا کھانا چاہیے تھا۔

جی صاحب پُورے سے بھی زیادہ کی بُھوک تھی لیکن یہ کالے چیونٹے آپ دیکھ رہے ہیں نا !! اِن میں سے دو پراٹھے پر چڑھ آئے تھے۔ میں نے دو لقمے اِن کے لیے دیوار کے ساتھ ڈال دیے ۔سُنا ہے رِزق بانٹنے سے بڑھتا ہے ۔ اور جو رزق اللہ نے میرے نصیب میں لکھ رکھا ہے وہ میں آپ کو تو پیش کر نہیں سکتا تھا لہذا اللہ نے اِن چیونٹوں کو بھیج دیا ۔سو وہ اپنا حصہ کھا رہے ہیں ۔

میرے معدے میں موجود پانچوں فاسٹ فوڈ آئٹم ہنسنے لگے !!

اور اُن کے بے مہار قہقہوں سے میرے پیٹ میں شدید مروڑ اُٹھنے لگے۔

یہ کوئی افسانہ نہیں اور نہ ہی گھڑی ہوئی کہانی ہے ۔محض پانچ دِن پُرانا واقعہ ہے ۔جن گلیوں سے گزر کر میں روزانہ آتا جاتا ہوں وہاں موجود گھروں کے باہر موجود کیاریوں میں بعض ایسے پودے بھی ہیں جن کی قیمت کا آغاز ہی دو لاکھ سے ہوتا ہے ۔

وہاں گلیوں میں ایسے کُتے ٹہلائے جا رہے ہوتے ہیں کہ جن کی غذا ولایت سے درآمد ہوتی ہے ۔ میں نے اُس کا شکریہ ادا کیا ۔ اَن پڑھ آدمی تھا ہونقوں کی طرح تکے جا رہا تھا کہ کس بات کا شکریہ ۔اُسے کیا پتا تھا کہ میں اپنی زندگی میں آنے والے امیر ترین آدمی سے مِل کر جا رہا تھا کہ جس نے میری نظر میں امیر غریب کی تعریف ہی بدل دی تھی ۔جی ہاں عمل کی دُنیا میں پہلی بار دیکھا تھا کہ بانٹنے والے امیر ہوتے ہیں اور جمع کر کر کے گاڑنے والے مُفلس ، غریب اور بے چارے !!
**
تحرير : علی شیرازی
* *
انتخاب : اردو کہانی 123 

Thursday, December 15, 2016

خاوند

"ازدواجیات" انور مقصود

میرا دوست کہتا ہے دنیا کا سب سے پہلا مہذب جانور "خاوند" ہے۔

میں نے پوچھا،
تو دوسرا...؟

جواب ملا
"دوسرا خاوند" :-)

خاوند کبھی بیوی کا آئیڈیل نہیں ہوسکتا اور جو آئیڈیل ہوتا ہے وه کبھی اُس کا خاوند نہیں ہوتا۔

ویسے خاوند اچھا عاشق بھی ہو سکتا ہے بشرطیکہ اُس کی بیوی کو پتہ نہ چلے :-)

عورت کی آدھی زندگی خاوند کی تلاش میں گزر جاتی ہے، اور باقی آدھی خاوند کی "تلاشی" میں۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کیلئے ضروری ہے کہ کبھی خاوند بیوی سے معافی مانگ لیا کرے اور کبھی بیوی کو چاہئیے که خاوند کو معاف کر دیا کرے :-)

جس خاوند کو اُس کی بیوی عظیم کہے، یقین کر لیں کہ اُس کا نام "عظیم" ہوگا-

کوئ کُچھ بھی کہے، خاوند سے زیاده کثیرالفوائد آئٹم بیوی کے لئے اور کوئ نہیں ہے۔

نقل و حمل کے لئے بھی خاوند بہترین ہے۔ یہاں "نقل" اور "حمل" سے مراد وه نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔

انور مقصود

بے ثباتی

                       زندگی آہ زندگی۔        


◀ اصفہانی خاندان کا تعلق کلکتہ سے تھا‘ یہ لوگ کلکتہ کے انتہائی متمول خاندانوں میں شمار ہوتے تھے‘ ابو الحسن کا تعلق اسی اصفہانی خاندان سے تھا‘ یہ کیمبرج میں پڑھتے تھے. مسلم لیگ کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا‘ پاکستان بنا تو ابو الحسن اصفہانی کروڑوں روپے کے اثاثوں کے ساتھ پاکستان شفٹ ہو گئے‘ ڈھاکہ اور کراچی دونوں ان کے کاروباری مرکز تھے‘ ان دونوں شہروں میں ان کے کارخانے‘ کوٹھیاں‘ پلازے ‘ فارم ہاؤسز اور زمینیں تھیں‘ امریکا میں سفیر کی تعیناتی کا مرحلہ آیا تو قائد اعظم نے اصفہانی صاحب کوپہلا سفیر بنا کر امریکا بھجوا دیا‘ یہ وہاں پانچ سال سفیر رہے‘ پھر دو سال برطانیہ میں ہائی کمشنر رہے‘ پھر ایک سال صنعت اور تجارت کے وفاقی وزیر بنے‘ بھٹو صاحب کا دور آیا تو انھیں افغانستان میں سفیر بنا کر بھیج دیا گیا‘ یہ اصفہانی صاحب کا سفارتی اور سیاسی پروفائل تھا جب کہ دوسری طرف یہ معاشی اور تجارتی میدانوں میں بھی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے رہے‘ یہ صدر ایوب خان دور میں ان 22 خاندانوں میں شامل تھے جو ملک کے زیادہ تر وسائل کے مالک تھے‘ اصفہانیوں کے بارے میں کہا جاتا تھا‘ آپ پاکستان کے کسی حصے سے کوئی چیز خریدیں منافع کا ایک حصہ کسی نہ کسی ذریعے سے ہوتا ہوا اصفہانی گروپ تک پہنچ جائے گا‘ ابوالحسن اصفہانی کے تین بچے تھے‘ سکندر اصفہانی ان کے بڑے صاحبزادے تھے‘ اصفہانی صاحب سفارت اور سیاست میں مصروف رہتے تھے چنانچہ کاروبار کی ذمے داری سکندر اصفہانی کے کندھوں پر تھی‘ یہ خاندان ایوب خان اور بھٹو کے زمانے میں کھرب پتی ہو گیا‘ بھٹو صاحب نے صنعتیں قوما لیں لیکن اس کے باوجود اصفہانی خاندان کے پاس کراچی میں اربوں روپے کی پراپرٹی تھی‘ سکندر اصفہانی نے دو شادیاں کیں‘ پہلی اہلیہ سے چار بچے ٗ دوسری اہلیہ بے اولاد ہیں ۔ 1990ء کی دہائی میں جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا‘ عدالتوں اور کچہریوں کا معاملہ چلا تو نوبت یہاں تک آ گئی وہ کراچی شہر جو کبھی اصفہانی خاندان کا گھر کہلاتا تھا اس شہر میں سکندر اصفہانی کے رہنے کے لیے کوئی چھت نہ بچی‘ سکندر اصفہانی سندھ کلب میں شفٹ ہو گئے‘ یہ دو سال کلب میں رہے اور دسمبر 2013ء میں سندھ کلب میں انتقال کرگئے‘ کلب سے ان کا جنازہ اٹھا‘ جنازے میں چند لوگ شامل تھے اور ان لوگوں میں ان کے خاندان کا کوئی شخص شامل نہیں تھا‘ سکندر اصفہانی فرح ناز اصفہانی کے والد اور حسین حقانی کے سسر تھے۔
یہ دولت کی بے وفائی اور دنیا کی بے ثبانی کا ایک واقعہ ہے‘ آپ اب پاکستان کے پانچ بڑے صنعتی گروپوں میں شامل ایک دوسرے خاندان کی کہانی بھی ملاحظہ کیجیے
◀ سہگل خاندان ایوب خان دور کے 22 خاندانوں میں پہلے پانچ خاندانوں میں شمار ہوتا تھا‘ یہ لوگ چکوال کے رہنے والے تھے‘ یہ دوسری جنگ سے قبل کلکتہ گئے‘ وہاں چمڑے کا کاروبار شروع کیا اور اس کاروبار پر مناپلی قائم کرلی‘ یہ لوگ قیام پاکستان کے بعد کراچی آ گئے سہگل خاندان نے پچاس کی دہائی میں کوہ نور ٹیکسٹائل کے نام سے فیصل آباد اور راولپنڈی میں دو کارخانے لگائے‘ یہ کارخانے اتنے بڑے اور کامیاب تھے کہ آج بھی ان علاقوں کو کوہ نور کہا جاتا ہے‘ ایوب خان کا دور سہگل خاندان کے عروج کازمانہ تھا  ٗسہگلوں نے پاکستان کا تیسرا بڑا بینک بنایا تھا یہ گھی کی صنعت میں آئے‘ ریان کپڑا شروع کیا‘ کیمیکل اور مشینری کے شعبے میں آئے اور عروج کو ہاتھوں میں تھام لیا‘ محمد یوسف سہگل اس خاندان کے سربراہ تھے‘ یہ 1993ء میں فوت ہوئے‘ ان کی تدفین سے قبل خاندان میں پھوٹ پڑ گئی‘ بچے دولت اور جائیداد کے لیے لڑنے لگے اور آج اس خاندان کا صرف نام بچا ہے۔
◀ آپ اب لاہور کے ایک فلم ساز کی کہانی بھی سنیے‘ وہ پاکستان کے چوٹی کے فلم ساز تھے‘ یہ پشاور کے رہنے والے تھے‘ یہ 21 سال کی عمر میں فلمی لائین میں آئے‘ صوبہ سرحد میں فلموں کے ڈسٹری بیوٹر بنے‘ جگت ٹاکیز اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی فلم کمپنی تھی‘ وہ اس کمپنی کی فلمیں ریلیز کرنے لگے‘ ایک وقت آیا جب وہ فلمساز جگت ٹاکیز کی تمام فلمیں ریلیز کرنے لگے‘ انھوں نے صوبہ سرحد میں ذاتی سینما بنالیے‘ یہ قیام پاکستان کے بعد لاہور شفٹ ہوئے‘ انھوں نے 1950ء میں ’’مندری‘‘ فلم بنائی‘ فلم کامیاب ہو گئی تو انھوں نے ایک فلمی کمپنی بنا لی‘ یہ بعد ازاں پاکستان کے معروف فلم اسٹوڈیو میں تبدیل ہو گئی‘ وہ فلمساز لاہور کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے‘  گلبرگ میں ان کی کئی کنال کی کوٹھی تھی‘ یہ 1974ء میں بیمار ہوئے اور گھر تک محدود ہو گئے‘ نعیم بخاری صاحب نے ان دنوں نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی‘ یہ ان فلمساز کے ایک صاحبزادے کے وکیل تھے‘ اسی صاحبزادے نے ایک دن نعیم بخاری کو ساتھ لیا اور والد کے گھر پہنچ گیا‘ اداکار محمد علی بھی وہاں موجود تھے‘ بیٹے نے باپ سے جائیداد کا مطالبہ کر دیا‘ وہ والد سے گلبرگ لاہور والی کوٹھی لینا چاہتا تھا‘ باپ نے بیٹے کی منت کی میں بیمار ہوں‘ میں اس حالت میں کہاں جاؤں گا ‘ میں آپ کو یہ کوٹھی لکھ دیتا ہوں‘ آپ کاغذات اپنے پاس رکھ لو‘ میرے مرنے کے بعد کوٹھی کا قبضہ لے لینا‘‘ بیٹے نے انکار کر دیا‘ اس کا کہنا تھا
’’ابا جی آپ کو یہ گھر ابھی خالی کرنا ہوگا‘‘ فلمساز کی صورتحال پر محمد علی اور نعیم بخاری دونوں کو ترس آ گیا‘ محمد علی نے فلمساز کے صاحبزادے کو پیش کش کی‘ زیبا بیگم کے پاس ڈیڑھ کروڑ کے زیورات ہیں‘ آپ یہ زیورات اپنے پاس رکھ لیں لیکن فلمساز کو اس گھر میں رہنے دیں‘ آپ کو جب یہ گھر مل جائے گا تو آپ میرے زیورات مجھے واپس کر دینا مگرصاحبزادہ نہ مانا‘ یہ معاملہ طول پکڑ گیا تو صاحبزادے نے بریف کیس سے پستول نکال لیا اور والد پر تان دیا‘ والد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ وہ اٹھ کر اندر گئے‘ چیک بک لے کر آئے‘ ساٹھ ستر لاکھ روپے کا چیک کاٹا‘ یہ چیک صاحبزادے کے حوالے کیا اور آنکھیں نیچے کر کے بولے‘ آپ یہ رقم لو اور مجھے اس کے بعد کبھی اپنی شکل نہ دکھانا‘ اس نے وہ چیک جیب میں ڈالا اور نعیم بخاری کے ساتھ واپس چلا گیا‘ وہ فلمساز 1983ء میں انتقال کر گئے‘ انتقال کے وقت ان کا کوئی اپنا وہاں موجودنہیں تھا‘ نعیم بخاری صاحب کے بقول ’’یہ منظر دیکھنے کے بعد میرے دل میں پوری زندگی کے لیے دولت کی خواہش ختم ہو گئی‘‘۔
◀  ہم سے زندگی میں صرف دس چیزیں بے وفائی کرتی ہیں‘ ہم اگر ان دس بیوفاؤں کی فہرست بنائیں تو عہدہ دولت اور اولاد پہلے تین نمبر پر آئے گی‘ ہم عہدے کے لیے ایمان‘ عزت‘ سیلف ریسپیکٹ‘ اخلاقیات‘ صحت اور خاندان تک قربان کر دیتے ہیں لیکن یہ عہدہ سب سے زیادہ بے وفا نکلتا ہے ‘ میں نے کرسی پر بیٹھے لوگوں کو فرعون اور نمرود بنتے بھی دیکھا اور ’’نسلیں ختم کردو‘‘ جیسے احکامات جاری کرتے بھی لیکن پھر جب عہدے نے بے وفائی کی تو میں نے اپنی آنکھوں سے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے با اختیار لوگوں کو بھی عدالتوں کے باہر گندی اینٹوں اور قلعوں کی حبس زدہ کوٹھڑیوں میں محبوس دیکھا‘ میں نے بے شمار ارب اور کھرب پتی لوگوں کو پیسے پیسے کا محتاج ہوتے بھی دیکھا‘؟

◀ دولت مند غریب ہو گئے‘ مالک ملازم بن گئے اور نمبردار وقت کے سیاہ صفحوں میں جذب ہو گئے چنانچہ پھر دولت سے بڑی بے وفا چیز کیا ہوگی اور رہ گئی اولاد! میں نے بے شمار لوگوں کو اپنی اولاد سے محبت کرتے دیکھا‘ یہ لوگ پوری زندگی اپنی اولاد کے سکھ کے لیے دکھوں کے بیلنے سے گزرتے رہے لیکن پھر کیا ہوا؟ وہ اولاد زمین جائیداد کے لیے اپنے والدین کے انتقال کا انتظار کرنے لگی‘ میں نے اپنے منہ سے بچوں کو یہ کہتے سنا ’’ اباجی بہت بیمار ہیں‘ دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی مشکل آسان کر دے‘‘ اور یہ وہ باپ تھا جو بچوں کے نوالوں کے لیے اپنا ضمیر تک بیچ آتا تھا‘  ◀ میں نے ایسے مناظر بھی دیکھے‘ باباجی کے سارے بچے ملک سے باہر چلے گئے۔ بابا جی نے تنہائی کی چادر بُن بُن کر زندگی کے آخری دن گزارے‘ انتقال ہوا تو بچوں کو وقت پر سیٹ نہ مل سکی‘ چنانچہ تدفین کی ذمے داری ایدھی فاؤنڈیشن نے نبھائی یا پھر محلے داروں نے!‘
◀ یہ ہے کُل زندگی! اولاد‘ دولت اور عہدے کی بے وفائی ان بے وفائیوں کے داغ اور آخر میں قبر کا اندھیرا ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہر شخص واقف ہے لیکن اس کے باوجود انسان کا کمال ہے‘ یہ دیکھتا ہے لیکن اسے نظر نہیں آتا‘ یہ سنتا ہے لیکن اسے سنائی نہیں دیتا اور یہ سمجھتا ہے لیکن اسے سمجھایا نہیں جا سکتا‘ ہر روز لوگوں کو تباہ ہوتا، مرتا، ذلیل ہوتا دیکھتا ہے مگر یہ ہر بار خود کو یقین دلاتا ہے ’’ یہ میرے ساتھ نہیں ہوگا‘‘ کیوں؟ کیونکہ ’’میں دوسروں سے مختلف ہوں‘‘۔

قوت برداشت


صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگالی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔
آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ 
قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ 
قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ 
دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں


بے رنگ ہوں

پرائیوٹ سکولز



اچی میں پان کی دکان اور اسٹیٹ ایجنسی سے بھی زیادہ تعداد میں اگر کوئی چیز ہے تو وہ انگریزی میڈیم گرائمر اسکول ہیں جہاں ایک کثیر تعداد میں طلبہ تمام علوم کی تعلیم انگریزی زبان میں حاصل کرتے ہیں۔ یہ اسکول ہر محلہ نہیں بلکہ تقریباً ہر گلی میں موجود ہیں اور شائد سرکاری اسکولوں سے بھی زیادہ تعلیم کی خدمت یہی ادارے فراہم کر رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے مقبول ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آپ کو دور دراز کا فاصلہ طے نہیں کرنا پڑتا بلکہ گھر کا کوئی بھی بڑا دروازے پہ کھڑے ہوجائے تو بچوں کو اسکول تک جاتے دیکھ سکتا ہے۔ دوسری خصوصیت ان اسکولوں کی فیسیں ہیں جو نہایت قلیل یعنی چند سو روپے ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ یہاں اساتذہ کو بھی تنخواہ کے نام پہ دو سے پانچ ہزار دیئے جاتے ہیں اور حکومت کا کم سے کم اجرت کا قانون کم از کم ان اسکول کے اساتذہ پہ شائد لاگو ہی نہیں ہوتا۔ ان اسکولوں میں عام طور پہ محلے کی خواتین ہی بطور اساتذہ کام کرتی ہیں کیونکہ ان اسکولوں میں صرف پیدل آنے والا استاد ہی نوکری کرسکتا ہے ورنہ ان اسکولوں میں تو اتنی بھی تنخواہ نہیں ملتی کہ چنگچی کا کرایہ نکل سکے۔
یقیناً آپ سوچ رہے ہونگے کہ ان اسکولوں کی سب سے بڑی خصوصیت تعلیم کا تو ذکر ہی نہیں تو جناب ان اسکولوں میں جو تعلیم فراہم کی جاتی ہے اسکا ذکر کافی سرسری انداز میں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان اسکولوں میں ملازمت حاصل کرنے کہ لئے اساتذہ کی اہلیت اسناد کی صورت میں کم سے کم دس جماعت اور قابلیت میں اسکو مائی بیسٹ فرینڈ یاد ہو تو کافی ہے۔ میں نے آج تک ایسی کوئی لڑکی نہیں دیکھی جس نے اسکول میں نوکری کی خواہش کی ہو اور دو چار دن میں ہی اسکو نوکری نا مل گئی ہو کیونکہ ان اسکولوں کی اساتذہ میں نوکری چھوڑنے کی رفتار کافی تیز ہوتی ہے اور وجہ نا تو کم تنخواہ اور نا ہی اسکول منیجمنٹ ہوتی ہے بلکہ گمان غالب ہے کہ سب سے زیادہ تعداد میں نوکری چھوڑنے کی وجہ شادی کا طے ہوجانا ہے۔ان اسکولوں میں پڑھانے والی ٹیچرز کیونکہ عام طور پہ محلے کی ہی ہوتی ہیں تو شام کو ٹیوشن والی باجی بھی یہی ہوتی ہیں اور ان بچوں کا آٹھویں تک اچھے نمبروں سے پاس ہونا بھی نہایت آسان ہوتا ہے۔ اچھے اسکولوں میں تو امتحان سے قبل سیلیبس نامی ایک چیز دی جاتی ہے جبکہ ان اسکولوں میں سیلیبس سے بھی آگے پانچ یا چھ سوالوں پہ نشان لگادیا جاتا ہے کہ یہ امتحان میں آئیں گے۔ ان کو ایجوکیشن اسکولوں میں مائ بیسٹ فرینڈ کے مضمون کے ذریعے عورت اور مرد کی مساوات کی اعلی مثال قائم کی جاتی ہے کیونکہ تمام لڑکے اور  لڑکیوں کا بیسٹ فرینڈ “علی یا احمد” نامہ لڑکا ہوتا ہے جو ہر سال امتحان میں فسٹ آتا ہے اور لکھنے والا بچہ سیکنڈ۔
ان اسکولوں میں میرا سکول نامی مضمون میں لکھوایا جاتا ہے کہ ہمارے اسکول میں ایک کھیلوں کا میدان ہے جبکہ زیادہ تر اسکول اسی گز سے ایک سو بیس گز کے مکان میں اور کچھ تو فلیٹ میں بھی قائم ہوتے ہیں اور یہیں سے بچوں کو پتہ چلتا ہے کہ حکومتی ترقی کے اشتہار اور ان اسکولوں کے میرا اسکول مضمون میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔اگر آپ اتنے غریب نہیں کہ بچوں کو سرکاری اسکول بھیجیں لیکن آپ کی ماہانہ آمدنی حکومت کی کم سے کم ماہانہ اجرت جتنی ہے تو یہ اسکول اس لحاظ سے بہتر ہیں کہ ان سے فارغ التحصیل ہونے کہ بعد بچہ کم سے کم اپنا نام اور پتہ انگریزی میں ضرور لکھ سکے گا۔ البتہ انٹر کا فارم بھروانے کہ لئے اسکو لازمی کسی تعلیم یافتہ بندے کی ضرورت پڑے گی

پاکستانی قوم کی بدقسمتی

‏🍀بدقسمتی سے ہمارے لوگ حسن نثار سے دانش٠فرحان ورک سے فارن پالیسی ٠ساحر لودھی سے علم اور عامر لیاقت سے دین سکیھتے ہیں.🍀

فلمی سکرپٹ

‏پارلیمنٹ میں ہونے والے ہنگامہ خیز اور ڈائیلاگز سے بھرپور اجلاس ہماری ڈوبتی ہوئی فلمی صنعت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کریں گے

موت!

‏کل میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا
.

دو لڑکیاں بغیر میک اپ کے جا رہی تھیں

اتنی کوشش... پر پهر بهی 100 تک گنتی مکمل نہ ہو سکی


تندور والی



وہ  تندور پر روٹیاں بنا رہی تھی ۔
پسینے میں ڈوبی ۔ کمر سے نیچے تک آتے ہوئے لمبے لیکن بکھرے ہوئے بال۔ پرانے سے بےرنگ کپڑے ۔ اوپر پھٹے پرانے کپڑے کا "ایپرن " سا پہنا ہوا۔ چہرے پر راکھ کی لمبی سی لکیر ۔ گال تندور کی حدت سے دہکتے ہوئے۔
عجیب نظارہ تھا۔ میں اپنے چچا کے گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ دروازے کے قریب لگے مٹی کے گھریلو تندور پر روٹیاں لگاتی اس لڑکی پر نظر پڑی اور پھر۔۔۔ پڑی ہی رہی۔ جب تک کہ چچی جان کھنکھار کر مجھے ہوش میں نہ لے آئیں۔ میں تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور آگے بڑھ گیا جبکہ وہ۔۔۔ وہ روٹیاں لگانے میں ہی مگن رہی۔ اسے شاید پتہ ہی نہ چلا کہ کب کوئی اسے دیکھ کر بُت بنا رہ گیا۔
۔(نوٹ: ہمارے قبائلی علاقے میں گھروں میں مٹی کے "کھڑے تندور" ہوتے ہیں جن میں لکڑی جلا کر روٹی بنائی جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک وقت ایک گھر میں تندور گرم کیا جاتا ہے تو پڑوسن بھی ادھر ہی آکرروٹیاں بنا لیتی ہے۔ اسی طرح دوسرے وقت پڑوسن کے گھر میں تندور گرم ہوتا ہے تو اول الذکر خاتون ادھر جا کر روٹیاں بنا لیتی ہے۔ یوں "ریسورس شئیرنگ" کے تحت  بچت بھی ہو تی ہے اور "پڑوسنوں کی گپ " بھی۔) 
۔
خیر۔ میں نے حُسن اور خوبصورتی کم نہیں دیکھی تھی زندگی میں لیکن اس لڑکی کی بات ہی کچھ اور تھی۔ شدید گرمی کے موسم میں تندور پر روٹیاں لگاتے ہوئے جو حال اس کا تھا، اسے حسین لگنا نہیں چاہئیے تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس سے پہلے (یا اس کےبعد) ایسا مسمرائز کر دینے والاحُسن میں نے زندگی بھر نہیں دیکھا۔
وہ روٹیاں بنا کر چلی گئی تومیں نے چچی سے پوچھا یہ لڑکی کون تھی؟ چچی نے پڑوسی کا نام بتا کر کہا فلاں کی بیٹی ہے نا۔ زرمینہ۔ (شناخت چھپانے کیلئے نام بدل دیا گیا ہے)۔ تم نے بچپن میں دیکھا نہیں تھا کیا؟ یہ تو ہمیشہ سے ہمارے گھر آتی رہتی تھی۔ نام سنا تو یاد آیا کہ اسے واقعی بچپن میں دیکھا تھا۔ مجھ سےتین چار سال چھوٹی ہوگی ۔ بچپن میں بھی خوبصورت تھی۔ لیکن بچے تو سب ہی خوبصورت ہوتے ہیں اور پھر وہ عمر "اِس نظر" سے دیکھنے والی ہوتی بھی نہیں۔
میں نے چچی سے اس کے بارے میں مسلسل کئی سوال کئے تو وہ ہنس پڑیں۔ چھیڑتے ہوئے بولیں لگتا ہے پسند آ گئی ہے۔ ویسے لڑکی بہت اچھی ہے۔ کہو تو رشتہ مانگ لیں اس کا؟ میں نے ہنس کر چچی کو تو ٹال دیا لیکن ان کی بات نے راستہ ضرور دکھایا۔ والدہ سے بات کرنے کا سوچا لیکن ادھوری تعلیم کا خیال آیا توخاموش ہو گیا۔ موبائل وغیرہ ابھی گاؤں میں زیادہ عام نہیں ہوئے تھے اسلئے محترمہ سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ یا موقع ظاہر ہے نہیں تھا۔ چچا ہی کے گھر ایک آدھ بار نظر آئی لیکن میں نے کبھی اس پر یا چچی پر  اپنے ذہن میں پکنے والی کھچڑی ظاہر نہیں ہونے دی۔ کرَش کہہ لیں۔ محبت کہہ لیں۔ یا کچھ بھی۔ بس اتنا تھا کہ جب بھی اس کی بولتی ہوئی آنکھوں کا خیال آتا تھا، دل میں ایک میٹھی سی چُبھن ہوتی تھی۔ خیر۔
ایک ڈیڑھ سال بعد میں چھُٹیوں میں گاؤں گیا تو چچا کے گھر وہ نظر آگئی۔ لیکن یہ وہ تو نہیں تھی۔ یہ تو کوئی کھنڈر تھی۔ چہرہ زرد، آنکھیں بےجان، پلکیں اور بھنویں غائب۔ دل میں ایک گھونسا سا لگا۔ چچی سے پوچھا یہ زرمینہ کو کیا ہوا۔ چچی نے بتایا کہ اس بےچاری کو تو کینسر کی موذی بیماری نے جکڑ لیا ہے۔ اس کا غریب باپ جو خود بھی بیمار رہتا ہے، اتنا مہنگا علاج برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے بھائی بھی بےروزگار ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے یہ موت کے منہ میں جا رہی ہے۔ مجھے اس کا حال دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔ لیکن  چاہ کر بھی میں اس کیلئے کچھ نہ کر سکتا تھا کیونکہ نہ کوئی رشتہ تھا نہ کوئی واسطہ اور نہ اپنی مالی حالت ایسی تھی کہ اس کیلئے کچھ کر سکتا کیونکہ میں تو خود ابھی طالبعلم ہی تھا۔ اسلئے دل پر پتھر رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
وقت یوں ہی گزرتا گیا ۔میری تعلیم مکمل ہو گئی اور مزدوری شروع کر دی۔ کافی عرصہ بعد عید پر گاؤں گیا تو چچا کے گھر اچانک وہ نظر آ گئی۔ لیکن یہ  وہ  بیمار زرمینہ تو نہیں تھی۔ یہ تو وہی پہلی والی زرمینہ تھی۔ وہی اُجلا حُسن، وہی آنکھوں کی روشنی، وہی دھیمی دھیمی سی مسکراہٹ ۔ میں تقریباْ دوڑ کر چچی کے کمرے میں گیا اور ان سے پوچھا یہ سب کیا ہے؟ زرمینہ تو بیمار نہیں تھی؟
چچی نے جواب میں جو بتایا وہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ زرمینہ کے گھر والوں کو کسی نے مشورہ دیا تھا کہ اسے علاج کیلئے لاہور لے جاؤ۔ وہاں کینسر کا ہسپتال ہے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو جاتا ہے۔ زرمینہ کے گھر والوں کو امید تو کوئی نہیں تھی کہ اس دور دراز قبائلی علاقے سے جانے والوں کا  لاہورکے ہسپتال میں کوئی بغیر  سفارش علاج کرے گا لیکن ایک موہوم سی امید کے سہارے جیسے تیسے کر کے لاہور پہنچے۔ ہسپتال والوں نے مفت علاج کی حقداری کی تصدیق ہونے پر اس کا علاج شروع کیا۔ علاج کافی لمبا، تکلیف دہ اور صبرآزما تھا لیکن اللہ نے کرم کیا اور زرمینہ بالکل ٹھیک ہوگئی۔
 چچی کی بات سن کر میری آنکھوں میں اپنے بچپن کا ایک منظر کوندا اور مجھے وہ "ایک روپیہ" یاد آیا (جو کینسر ہسپتال کے چندے کیلئے دیا تھا)۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرا وہ  ایک روپیہ ضائع نہیں ہوا تھا۔ یہ سوچ کر دل ہی دل میں خود کو تھپکی دی کہ زرمینہ کے ٹھیک ہونے میں میرا بھی حصہ ہے۔
زرمینہ ٹھیک ہو گئی تھی۔ میں بھی اب مزدوری کا "مالک" تھا۔ بظاہر سب کچھ "فِٹ" نظر آرہا تھا اور میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے کافی لمبی پلاننگ کر لی کہ  فوراْ  گھر جا کرامی جان سے بات کرنی ہے اور۔۔۔۔۔۔
اچانک کمرے میں رکھی ایک چارپائی سے  بندھی "زانگو" (پنگھوڑے) سےکسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔ میں پنگھوڑے کی طرف گیا تو دیکھا کہ ایک خوبصورت سا چند ماہ کا بچہ لیٹا رو رہا ہے۔میں نے حیرانی سے  چچی سے پوچھا یہ بچہ کون ہے؟
چچی نے جواباْ جو کہا اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ 
۔
تحریر: شا زلمے خان۔


Wednesday, December 14, 2016

ایک خوبصورت سی غزل

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوف خدا

اللہ کی رحمت

ایسی قوم؟

نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نا پسندیدہ چیز

تبرک

مجھے ایک عدد ٹینک چاہئے

آج کورٹ میں ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا، ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کیلئے درخواست دی تھی، اور یہ دیکھنے ہزاروں کی بھیڑ اور میڈیا کورٹ میں موجود تھے.
جج دیہاتی سے: یہ تم نے توپ کے لائسنس کے لئے درخواست پورے هوش و حواس میں دی ہے؟
دیہاتی - جی ہاں جج صاحب
جج - کیا تم عدالت کو بتاؤ گےکہ یہ توپ تم کہاں اور کس پر چلانے والے ہو.
دیہاتی - جج صاحب
گزشتہ سال میں نے اپنے دیہی بینک میں 1 لاکھ روپے کے بے روزگار لون کیلئے درخواست دی، بینک والوں نے پوری جانچ پڑتال کر کے میرے لیئے10 ہزار روپے کا لون منظور کیا.
اس کے بعد میری بہن کی شادی کے لیئے میں نے راشن سے 100 کلو شکر کے لئے درخواست کی اور مجھے راشن سے صرف 10 کلو شکر ملی.
ابھی کچھ دن پہلے جب میری فصل شدید بارشوں کے نتیجہ میں آنے والے سیلاب میں ڈوب گئی تو پٹواری نے میرے لئے 50 ہزار روپے کا معاوضہ منظور کرنے کی بات کرکے گیا اور میرے اکاؤنٹ میں صرف 5 ہزار روپے ہی آئے.
اس لئے اب میں سرکاری طریقہ کار کو بہت اچھے سے سمجھ گیا ہوں، مجھے تو بندر بھگانے کیلئے پستول كا لائسنس چاہیے تھا پر میں نے سوچا کی اگر میں پستول کے لائسنس کی درخواست کروں گا تو
مجھے کہی آپ غلیل کا لائسنس ہی نہ دے دیں، اس لئے میں نے توپ کے لائسنس کی درخواست دی ہے.

مٹن بریانی بنانے کا طریقہ.. ( Mtton Biryani)


اجزائے ترکیبی 



اجزاء:
مٹن ----- ایک کلو 
نمک -----ڈیڑھ کھانے کا چمچ 
کوکنگ آئل ----- ایک تہائی کپ 
چاول ---- آدھا کلو 
لہسن ---- ڈیڑھ کھانے کا چمچ 
ادرک ----- ڈیڑھ کھانے کا چمج 
پیاز ------ چار عدد 
دہی ----- تین کپ 
پسی لال مرچ ------ دو کھانے کے چمج 
گرم مصالحہ ------ ایک کھانے کے چمچ 
ٹماٹر ------ ایک عدد 
لیموں ----- دو عدد 
زیرہ ------ ڈیڑھ کھانے کا چمچ 
دھنیا ----- ڈیڑھ کھانے کا چمچ 
کیوڑہ ------ ایک چوتھائی کپ 
آلو ------ تین عدد 
پیلا رنگ ------ ایک تہائی چائے کا چمچ

ترکیب:
گرم تیل میں پیاز٬ ادرک اور لہسن فرائی کرلیں- 
اب اس میں مٹن٬ لال مرچ اور ہلدی شامل کر کے تیز آنچ پر 10 منٹ کے لیے فرائی کریں- 
اس کے بعد 2 لیٹر پانی اور نمک ڈال کر ہلکی آنچ پر اتنی دیر پکائیں کہ گوشت اچھی طرح گل جائے- 
پھر اس میں زیرہ٬ دھنیا اور دہی شامل کر کے تیز آنچ پر پکائیں٬ اتنا کہ پانی خشک ہوجائے- 
آلوؤں کو الگ سے تھوڑا ابالیں اور زردے کا رنگ ڈال کر قورمے میں شامل کریں- 
پسا گرم مصالحہ٬ ٹماٹر٬ لیموں اور کیوڑہ ڈال کر چولہا بند کردیں- 
بھیگے چاولوں کو نمک ملے ابلے پانی میں ابالیں اور نتھار کر چاول٬ قورمے میں شامل کرلیں- 
اوپر سے زردے کا رنگ ڈال کر تیز آنچ پر رکھیں- 
بھاپ بننے پر ہلکی آنچ پر 15 منٹ کے لیے دم پر چھوڑ دیں- 
تیار ہونے پر گرم گرم سرو کریں- 

Monday, December 12, 2016

پھر؟

عورتوں کے حقوق کا عالمی دن،اسپیشل سیٹ اپ
میک اپ ٹھیک کرواتی ماڈرن اینکر
ایک این جی او کا سرپرست
کچھ مجبور عورتیں
کیمرہ .......فلیش......مائیک کا رخ 
سفید پوش شخص.........این جی او چلانے کا خیال....کیسے؟
شفیق مسکراہٹ......خدمت خلق
مائیک دوسری طرف گھوما
این جی او تک کیسے پہنچی؟
غربت........ بیچ دی گئی.
کسے؟
شرابی بوڑھے کو........
پھر؟
نظریں فرش پر.........روز ایک بوتل کے عیوض.......
اوہ! تاسف بھری نظر......
کٹ......گلیسرین لگائیں....شوٹ ہارم فل دکھنا چاہیے...
فلیش....
پھر؟....
ہم نے پناہ دی....... سفید پوش نے ان دیکھی گرد کالر پہ سے جھاڑی
اوہ !
قدروقیمت بڑھی؟
ہاں! ٹھہری آنکھیں
سپاٹ لہجہ
کتنی؟
ایک بوری آٹا..".........

سیاست میں گالیوں کااستعمال


اندرون شہروں کے بل کھاتے محلوں میں اکثر پھپھے کُٹن ماسیاں ہوتی ہیں ۔جو کیبل کی طرح ہر گھر میں جاتی ہیں ۔ جنہیں گھریلو راز۔وائی فائی کے سگنل کی طرح با آسانی مل جاتےہیں۔زچگی سے بچگی تک ۔ دن رکھنے سےدن پھرنے تک۔ کے سگنل۔۔ وہ رشتے ایلفی کی طرح جوڑنے اور شیشے کی طرح توڑنے کی ماہر ہوتی ہیں۔محلوں کی لڑائیوں اور شناسائیوں ۔سمیت کئی سماجی خدمات ماسیوں کے دم سے قائم ہیں۔ ہمارے محلے کے لونڈوں، لفینٹروں نے ماسی کانام گوگل رکھا ہوا ہے۔ اورسوشل سروس کے اعتراف میں ماسی کے چاروں بچوں کے نام بھی سوشل میڈیا سے منسوب ہیں۔ بڑی بیٹی ’’وٹس ایپ‘‘ہے۔منجھلی ۔ ماں کی کاپی ہےاسے’’گوگل پلس‘‘کہتے ہیں۔چھوٹی ’’ یوٹیوب‘‘ہے اور بیٹا ٹوئیٹر۔فرصت کے لمحوں میں ماسی۔بیچ چوراہے پڑے منجھے پر بیٹھ کر منگ پتہ بھی کھیل لیتی ۔اسی بیٹھک میں کئی کوڑے۔ بابے بھی ہوتے ہیں۔جنہوں نے ماسی کی گالیوں کو ریفائن کردیا ہے ۔پنجابی۔سخن وری کے دوران ماسی کا جہاں سانس ٹوٹتا۔ کچھ جانے پہچانے اعضا سنائی دیتے ۔وگرنہ ماسی تو ۔ چُولے وچ پینا۔ گولی لگنا۔ٹوٹ پینااور کھسماں نوں کھانا جیسی گالیاں تہذیبی پیرہن میں لپیٹ کردیا کرتی تھی۔اب تووہ شہاب نامےکی خانم بن چکی ہے۔’’ملکہ دشنام‘‘۔جس کے شوہر( آغا صاحب) کواپنی بیوی کی گالیوں پرفخر تھا ۔ 

’’آغا صاحب بولے۔ایک بار سر ی مہاراجہ بہادر نے چشمہ شاہی پر گالی گلوچ کا بڑا شاندار ٹورنامنٹ کرایا۔ مہاراجہ پٹیالہ، مہاراجہ الور ، نواب آف پالن پور، مہاراناجھالا دار سب موجود تھے۔ گالیوں کا مقابلہ شروع ہوا۔ سب نے اپنے اپنے جوہر دکھائے ۔ لیکن ٹرافی ہماری خانم نے جیتی۔ گالی پوری ڈیڑھ منٹ دراز تھی‘‘۔نندہ بس سروس۔شہاب نامہ سے اقتباس ۔

گالی وہ مافی الضمیر ہے جو خبث کو۔قے (الٹی)کی طرح باہر نکال پھینکتی ہے۔گالی ۔انسانی تربیت،سماجی میلاپ اورانفرادی ذوق کا عملی ثبوت ہوتی ہے ۔خواہ تہذیبی پیرہن میں ہی لپٹی کیوں نہ ہو۔ کامل اسے سمجھا جاتا ہے جومہاراجہ پٹیالہ اورنواب آف پالن پور کے سامنے ڈیڑھ منٹ دراز ’’قے ‘‘کرلے۔بقول مشتاق احمد یوسفی صاحب’’ گالی مادری زبان میں ہی لطف دیتی ہے‘‘۔ممکن ہے خانم اسی وجہ سے جیتی ہو۔لیکن میرا دوست شیخ مرید کہتا ہے کہ ہم سوچتے بھی مادری زبان میں ہیں اور خواب بھی اِسی زبان دیکھتے ہیں۔
بیوی :تم سوتے ہوئے مجھے گالیاں دے رہے تھے۔
شوہر:یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔
بیوی: کیا غلط فہمی ۔؟
شوہر :یہی کہ میں سو رہا تھا

گالیاں۔ مادری زبان میں ہوں یافارمی۔ ادب سے گہرا تعلق ہے۔اسی لئے گالیاں بکنے والے کو بے ادب کہا جاتا ہے ۔لیکن شیخ مرید کہتا ہے کہ گالیاں ایسی ہونی چاہیں جنہیں سن کر دماغ کی بتی۔ہنگامی الارم کی طرح بجنے لگے۔ کان سُرخوں کے جھنڈے جیسے لال ہو جائیں۔جنہیں مکھن میں بال کی طرح لاشعور سےنکال کر شعور میں لایا جا سکے۔سعادت حسن منٹو کے افسانے ٹھنڈا گوشت میں ایشر سنگھ کی اردوگالیاں اسی لئے ٹھنڈی ٹھنڈی تھیں کیونکہ سکھ پنجابی میں سوچتے ہیں۔یہ دشنام طرازی تو ہے۔ لیکن لطفِ خانم کہاں۔ ؟ اب دیکھو بھلا ۔’’تین غنڈے ‘‘میں کرشن چندرکے کردار عبدالصمدنےجو گالی دی ہے۔’’تیری ماں کے دودھ میں حکم کا اِکا‘‘ ۔ بالکل ہی بے سرو پا ہے۔عبدالصمدسے توبانو قدسیہ کا عزیز گاتن اچھا نکلا۔ ماسی الفت کا بیٹا۔۔جس کی باتیں سن کر کان سرخوں کا جھنڈا بن جاتے۔اوردماغ کی بتی ٹمٹمانے لگتی۔

’’عزیز گاتن کا اوپر والا ہونٹ پیدائشی کٹا ہوا تھا۔ اسی لئے وہ ہمیشہ ہنستا دکھائی دیتا۔ وہ چھوٹی عمر سے ہی غلیظ باتیں سننے کا عادی تھا۔ پرانے بھٹے کے پاس جہاں مائی توبہ توبہ کی جھونپڑی تھی۔ وہاں مجھے لے کر وہ ایسی ایسی گالیاں سکھاتا کہ ان کے معنی نہ سمجھتے ہوئے بھی کان جلنے لگتے‘‘۔ راجہ گدھ سے اقتباس 

گالی عداوت اور بے تکلفی کے اظہار کا یکساں ذریعہ ہے۔ حتی کہ ایک ہی گالی دوالگ الگ لہجوں میں الگ الگ پیغام دیتی ہے۔ لیکن عداوتی گالیاں خانم جتنی لمبی اور۔بے تکلف گالیاں ماسی گوگل جتنی مختصربھی ہو سکتی ہیں۔کان جلانے والی۔ایسی گالیوں کا مرکزی خیال رشتہ دار ہو تے ہیں۔شاعری کے دیوتا مرزا غالب کو کسی نے خط میں ماں‌ کی گالی لکھ کر بھیجی تو مرزا بہت ہنسے اور بولے’’ اس بیوقوف کو گالی دینے کا بھی شعور نہیں۔ بوڑھے کو بیٹی کی گالی دینی چاہیے تاکہ غیرت آئے۔ جوان کو ۔ جورو کی گالی دو کیونکہ اسے جورو سے لگاؤ ہوتا ہے اور بچہ ماں سے مانوس ہوتا ہے اسےماں‌ کی گالی دیتے ہیں اور مجھ جیسے بوڑھے کو ماں کی گالی دینے والا پاگل ہی ہوگا‘‘۔مرزا نے گالی کا جونصاب مقرر کیا ہے۔وزیر مملکت عابد شیر علی بھی اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک چور کی بیوی سے اس کی سہیلی نے پوچھا:تمہارے خاوند نے اس بار شادی کی سالگرہ پر کیا تحفہ دیا۔؟
بیوی: خاک بھی نہیں دی۔وہ تحفہ لا رہے تھے کہ راستے میں ہی پکڑے گئے۔

ایان علی بھی راستے میں ہی پکڑی گئی تھی ۔وہ تقریبا ڈیڑھ سال سے ’’مائی توبہ توبہ کی جھونپڑی‘‘ میں ہے۔دبئی میں آج بھی تحفوں کا انتظار ہے۔لیکن عابد شیر علی نےاچانک عزیز گاتن جیسی باتیں شروع کر دی ہیں۔جنہیں سن کر سرخوں کے ’’سُرخیل‘‘ بلاول زرداری سمیت ساری پیپلزپارٹی کے کان جلنے لگے ہیں۔عجب مخمصہ سا ہے کہ گالیوں کی طرح ملکی سیاست کا مرکزی خیال بھی اب رشہ داریاں ہیں۔لیکن منہ بولی ۔سیاست میںرشتوں کی ابتدا بلاول زرداری نے کی ۔جسے۔کوڑے بابے ’’عابدشیرعلی ‘‘ نے انتہا تک پہنچایا۔ بلاول نے چا چا عمران، انکل الطاف، انکل پا شا جیسے رشتہ دار بنائے۔لیکن ۔چاچا عمران کو کہا سیاست اور عقل عمر کی قیدسے آزاد ہوتی ہے۔انکل الطاف کو غدار کہا۔انکل پاشا پرچچا عمران کی مدد کا الزام لگایا اور انکل نوازشریف کو مودی کا یار کہا۔بھائی عابد شیر علی کو’’وزیربد اخلاقی ‘‘ قرار دیا اور کہا گیا کہ وہ اپنی ’’ماسی ‘‘کی بیٹی کی آف شور کمپنیوں بچانےکو بےقرار ہیں۔’’ خانم‘‘ مقابلہ جیتنے کی پوزیشن میں آ رہی تھی۔اورمخالفین کےکان سرخ ہو رہے تھے۔ 
’’ڈاکٹر صاحب! آپ نے مجھے ڈائٹنگ پلان دیا ہے کافی سخت ہے ۔میں غصیلی اور چڑچڑی ہو گئی ہوں ۔ کل میری اپنی شوہر سے لڑائی ہو گئی۔ اور میں نے ان کا کان کاٹ کھایا ‘‘۔
ڈاکٹر:فکر کی کوئی بات نہیں ۔ محترمہ۔’’ایک کان میں سو حرارے ہوتے ہیں۔

عابد شیر علی کو بھی حراروں کی ضرورت ہے۔بلاول نے توچاچا عمران۔ تایا فضل الرحمن، انٹی۔کشمالہ۔اور ملالہ۔ کےرشتے گنوائے تھے ۔ جن میں عابدشیر علی نے انٹی ایان۔ انٹی فریال۔ انکل ٹپی اور انکل شرجیل کا اضافہ کیا ہے۔ سری مہاراجہ بہادر کا گالی گلوچ ٹورنامنٹ ابھی تک جاری ہے۔خانم بننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔سیاسی استعاروں میں ہمدردی جتائی جا رہی ہےبلاول کوشادی کر کے اپنے گھر سدھارنے کامشورہ دیا جا رہا ہے۔ملکی سیاست چوراہے میں پڑے منجے کی طرح ہے ۔ جہاں سارے بے ادب سیاستدان انجانے میں ادبی گفتگو کرتے ہیں۔سعادت حسن منٹو کے ایشر سنگھ، بانوقدسیہ کے عزیز گاتن اور کرشن چندر کے عبدالصمد والی زبان میں۔گفتگو۔بے سرو پا سیاست۔پھپھے کٹن سیاست۔ماسی گوگل والی زبان میں جو۔مسلسل ریفائن ہورہی ہے۔

گھر بنا نا چاہیے !



یہ تھا خیال جو ہمارے والدین خصوصاً والد کو آیا جس وقت وہ ریٹائر منٹ کے قریب تھے ۔ اچھے بھلے سرکاری بنگلے میں رہائش پذیر تھے۔ مگر ایک تو ہمارا مالی کسی رشتہ دار سے کم نہ تھا!جلتا تھا یا کام چور تھا! ہروقت کی شکایت کہ اتنے بڑے بڑے درخت ہیں میں پتے چن چن کر تھک جاتا ہوں !گھر کے کسی فرد سے ملاقات کرتا، یہ بھاشن ضرور دیتا کہ یہ تو سرکاری بنگلہ ہے آپ کو چھوڑنا پڑے گا میں نے تو پلاٹ لے لیا ہے ! اس کا فخر سن سن کر کان پک گئے تھےہم سب کے! اس کے ساتھ ساتھ کچھ احباب کی نصیحتیں کہ میاں حج کر لیا مبارک ہو اب گھر بھی بنالو!۔۔۔۔۔یہ کوئی آبائی مکان تھوڑیکہ منزل کے اوپر منزل بناتے چلے جائیں !سرکاری کالونی میں تو آ بادی اپنی حدود میں رہتی ہے! !۔۔۔۔ ادھر ریٹائرمنٹ ہوئی ادھر گھر چھوڑنے کا نوٹس تیارملتا ہے۔

کہتے ہیں کہ مسلسل برسنے سے تو پتھر میں بھی سوراخ ہوجا تاہے چنانچہ ہمارےوالد محترم کا پیمانہ اس روز چھلک کر باہر آگیا جب ایک رشتہ دار بچی کا مکالمہ ان کی سماعت سے ٹکرایا کہ ۔۔۔یہ مکان آپ کا تھوڑی ہے! بچےکیا جانیں ذاتی اور سرکاری مکان کا فرق ؟ وہ تو اپنے ابا کی زبان بول رہی تھی جو یقیناً انہوں اپنے گھر کے مقابلے میں ایسا گھر خریدنے کے مطالبے پر اس کو تسلی دی ہوگی۔۔۔۔ تو بس سنجیدگی سے اس محاذ پر کام شروع ہو گیاجس کی ابتداء پلاٹ کی خریداری سے ہوئی۔

بہت ہی مناسب قیمت پر کارنر پلاٹ ! ۔ گھنے جنگل کے درمیان ابھری ہوئی سطح پر ( نہ جانے کے ڈی اے والوں نے پلاٹ کی کٹنگ کس طرح کی ہوگی اس مخروطی طرز کی جگہ کی؟) آب و ہوا نہایت خوشگوار! ویرانہ اتنا کہ الو کو ڈھونڈیں! شاندار محل وقوع کے ضمن میں ہمارے ابا کے دو ہی دلائل تھے۔ موجودہ رہائش کے کتنا قریب ہے کہ وہی مانوس بس اسٹاپ ہے ۔بس سے اتریں تو ابھی شمال کی طرف کو گھر ہے بعد میں جنوب کی طرف ( ایک تو ہمارے ابا کو بسوں کے سفر اور پیدل چلنے پر عبور تھا) دوسرے امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ برابر والی پہاڑی کی چوٹی پر رینجرز گھات لگائے بیٹھی تھی کیونکہ قریب ہی ان کا ہیڈ کوارٹر تھاتو بس حفاظتی لحاظ سے بہترین ٹھہرا ۔۔۔۔!نقشے کے مطابق اس سے ملحقہ پارک اور نزدیک سرکاری آفس بھی تھا۔ ہوگا!فی الحال تو سب کچھ گھنی جھاڑیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔

پلاٹ کی ملکیت کے بعد جب ہم اس کے سامنے مرکزی شاہراہ سے گزرتے تو اس ایستادہ رینجرز کی بندوق کی نالی دیکھ کر اپنی زمین کا اندازہ کر لیتے! دل باغ باغ ہوجاتا مگر وہاں رہائش کا ہنوز کوئی امکان نہیں تھا۔ 

اب مسئلہ تھا اس پر گھر بنانے کا کہ اس کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مترادف جوں ہی اس انتظام کی بھنک ہمارے ابا کے اس وقت کے مشیر اور صلاح کار کو ملی اپنے سالے ( زوجہ کے بھائی ) کےآرکیٹیکچر میں ڈگری کا ہونے کی خبر لے کر حاضر ہوئے ۔ ساتھ ہی ایک بلڈربھی نتھی ہوگیا۔ اس ننھے سے پلاٹ پر پتہ نہیں کتنے بڑے بڑے منصوبے بن گئے۔ کافی ردوکد کے بعد ایک ڈیزائن طے ہو ہی گیا۔ کاغذ پر بنے نقشے کو دیکھ کر گھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔باقی سارے نشانات تو سمجھ میں آ رہے تھے مگر یہ آ خر پی روم کیا ہے؟عقدہ کھلا کہ پلے روم ہے! سردیوں میں وہاں بلیئرڈ وغیرہ کھیلی جاسکے گی! پلاٹ کی ٹوپوگرافی دیکھتے ہوئےانہوں نے گھر کے آدھے حصے میں بیسمنٹ بنایا ۔اس کے برابر میں سرونٹ روم ایک واش روم کے ساتھ! موصوف نےجہاں سے ڈیزائن اخذ کیاتھا وہاں یہ سارے لوازمات انتہائی ضروری ہوتے ہیں ۔( پتہ نہیں سوئمنگ پول کو کس طرح نقشے سے باہر کیا ہوگا بے چارے نے؟) یہاں برف باری تو ہوتی نہیں پھر اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس اعتراض کا جواب یوں سامنے آ یا کہ چلیں پلے ( کھیل کا کمرہ ) نہ سہی پرے روم (عبادت کا کمرہ )سمجھ لیں !اس کے لیے اتنا بھاڑ سا کمرہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ مصلہ تو کہیں بھی بچھایا جا سکتا ہے! ہم بھی جوابی اعتراض داخل کر سکتے تھے مگر کچھ سوچ کر چپ ہو گئے کہ یہاں اجتماع ہوسکتا ہے۔۔۔ڈے کئیر سنٹر بنا سکتے ہیں ۔۔۔لائبریری ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ !پلاننگ مینیجمنٹ کا شعبہ تو ہم پاکستانیوں کے لیے گھر کی مرغی ہے! شیخ چلی تو ناحق ہی مشہور تھا! یہاں یہ بات بھی گوش گذار کریں کہ اس نومولود آرک ٹیکچر کے ڈیزائن منظور ہونے پر ہمارے بہت سے قریبی رشتہ دار اور احباب جو باقاعدہ ڈگری یافتہ انجینئر تھے خاصے عرصے ناراض رہے! ہمارے خیال میں ان کے تحفظات درست تھے۔ 

نقشہ پاس ہونے کے بعد نیا مر حلہ تعمیرات کا تھا۔ ہمارے ابا جان کو ریٹائر ہوتے ہی ایک بامقصد مصروفیت ہاتھ آ گئی۔ روز صبح صبح ناشتے کے بعد پانی کی بوتل لے کر چھوٹے بھائی کے ساتھ پلاٹ پر تشریف لے جاتے اور مزدوروں کے ساتھ ہی دن گزار کر مٹی میں اٹے شام کو تشریف لاتے ۔ اتنے پتھریلےعلاقے میں کھدائی آسان نہ تھی۔بنیادیں ڈالنے کےبعد بیسمنٹ میں کام شروع ہوا۔ بقول ہمارے ابا جان کے اس میں اتنا وقت اور سرمایہ لگا کہ ایک پوری منزل بن سکتی تھی!اللہ اللہ کرکے زمین کےاوپر کام شروع ہوا تو کچھ شکل نظر آ ئی۔ جس دن بس سے گزرتے ہوئے اوپری منزل کی دیوار نظر آئی ہم خوشی سے چیخ پڑےاور ہمارے برابر میں بیٹھی خاتون نے ہمیں سہم کر دیکھا ۔

اس مشغولیت کی وجہ سےگھر کی فضا تبدیل ہوگئی اور ہر وقت اسی کا ذکر ہونے لگا۔ ماحول تعمیراتی کمپنی سا ہوگیا۔ اب موضوع گفتگو یہ تھے بجری، ریت، سمینٹ ، سریا کہاں سے ملے گا؟ کیا قیمت ہے؟ شیشہ کہاں بہترین ملے گا ؟ ٹائلز اور ماربلز پر بھی خا صی ریسرچ ہوئی!گاہے بہ گاہے ہم سب گھر والے سائیٹ کا معائنہ کرتے اور مزدوروں کو زچ کرنے کی کوشش کرتے۔ ایک دن ہم سب اسی سر گرمی کے لیے پہنچے تو مجوزہ گیٹ سے داخل ہوتے ہی دو بڑ ی بڑی کھائیاں نظر آ ئیں ۔ ہم تو چیخ مار کر گاڑی میں بیٹھ گئے ۔ایک تو بیسمنٹ کی طرف جانے والا خلا تھا جہاں سیڑھیاں لگنی تھیں ۔دوسرا زیر زمین پانی کے ذخیرہ رکھنے کے لیے تھا۔ اتنا بڑا؟ کیا پورا واٹر بورڈ یہیں ہے؟پورے چار واٹر ٹینکر آجائیں گے اس میں ! بلڈر کا فخر ہمیں ذرا پسند نہ آ یا ۔ہر معاملے میں فیاضی سے کام لے رہے تھے۔لوہا اتنا ٹھونسا گیا کہ لگتا تھا اتفاق فاؤ نڈری کا سارا مال یہیں کھپانا ہے! اس کے مضر اثرات یہ ہوئے کہ کچن اور وارڈروب کے جو ڈیزائن ہم نے کیٹلاگ دیکھ کر پسند کیے تھے بجٹ آ ؤٹ ہونے کے باعث ادھورے رہ گئے۔ 

آخری کام بجلی کی فٹنگ تھا۔فانوسوں کی خریداری پر جو بحث ہوئی ہے خواہ مخواہ اسمبلی سیشن یاد آ گیا! 
گھر پر رنگ وروغن کے بعد بس ہمارا منتقل ہونے کا مر حلہ تھا! مگر نہیں اس سے پہلے ماربلز کی گھسائی کا کا م باقی تھا۔ مگر ابھی شرف رہائش نہیں بخشا جا سکتا تھا۔ وجہ؟ بنیادی سہولیات کا فقدان یعنی بجلی نہیں ، گیس ندارد ، اور پانی کے لیے تو صاف صاف کئی برسوں یعنی 1998ء تک انتظار کرنا تھا ہنوز دلی دور است کے مصداق! ( یہ انتظا ر اگلی صدی میں 2009 ء میں ہی ختم ہوا جب لائن کا پانی ہمارے گھر آ یا ) ہاں البتہ ٹیلی فون کا چونکہ نیا ایکسچینج لگا تھا لہذا ڈیمانڈ نوٹ اگلے ہی دن خالی پلاٹ پر پھڑ پھڑانے لگا۔ اس سے انتظار کرنے کو کہا گیا حتٰی کہ گھر کا کچھ ڈھانچہ کھڑا ہو!

گھر میں ہماری منتقلی کا کام قدرے تاخیر سے ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے ! پھر کبھی صحیح !! ہاں اتنا ضرور بتادیں کہ ہم یوں تو یکم اگست کو اس گھر میں شفٹ ہوچکے تھے مگر باضابطہ طور پر اگست کی 14 تاریخ کو یعنی جشن آ زادی ہم نے اپنے نئے ملک ۔۔۔معاف کیجیےگا گھر میں منایا!درمیانی وقفہ کہاں اور کیسے گزارا؟

ا پنے گھر میں کیا تجربات رہے ؟ آ ئندہ قسط میں پڑھیے گا۔ہاں مالی کا انجام بھی!!!