Wednesday, November 30, 2016

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی .... جون ایلیا

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی 
چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی

چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی

سو گئی ہوگی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہوگی

سرخ اور سبز وادیوںکی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی

چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی

پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی

نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہوگی

ہو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی

مدّت ہوئی ہے، یار کو مہماں کئے ہوئے .....غالب!

مدّت ہوئی ہے، یار کو مہماں کئے ہوئے
جوشِ قدح سے بزمِ چراغاں کئے ہوئے

کرتا ہوں جمع پهر جگر لخت لخت کو
عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کئے ہوئے

پهر وضعِ احتیاط سے رُکنے لگا ہے دم
برسوں ہوئے ہیں چاکِ گریباں کئے ہوئے

پهر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفس
مدّت ہوئی ہے سیر چراغاں کئے ہوئے

پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق
سامانِ صد ہزار نمک داں کئے ہوۓ

پهر بهر رہا ہے خامہ مژگاں، بہ خونِ دل
سازِ چمن طرازیِ دَاماں کئے ہوئے

باہم دِکر ہوئے ہیں دل و دیده پهر رقیب
نظّاره و خیال کا سَاماں کئے ہوئے

دِل پهر طوافِ کوۓ ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کده ویراں کئے ہوئے

پهر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
عرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کئے ہوے

دوڑے ہے پهر ہر ایک گُل و لالہ پر خیال
صد گلستاں نِگاه کا ساماں کئے ہوے

پهر چاہتا ہوں نامہ دلدار کهولنا
جاں نزرِ دل فریبی عنواں کئے ہوے

مانگے ہے پهر، کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رُخ پہ پریشاں کئے ہوے

چاہے ہے پهر، کسی کو مقابل میں، آرزو
سرمہ سے تیز دشنہ مژگاں کئے ہوے

اک نو بہارِ ناز کو تا کے ہے پهر نِگاہ
چہرہ فروغِ مے سے گُلستاں کئے ہوئے

پهر، جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بارِ منّتِ درباں کئے ہوئے

جی ڈهونڈتا ہے پهر وہی فرصت کے رات دن
بیٹهے ہیں تصّورِ جاناں کئے ہوئے

غالب! ہمیں نا چهیڑ کہ پهر جوشِ اشک سے
بیٹهے ہیں ہم تہیّہ طوفاں کئے ہوئے

حاجی


ایک صاحب حج سے واپس لوٹے تو سیدھا اپنے محلے کی دکان پر تشریف لے گئے۔ 

دکاندار بہت خوش ہوا کہ لگتا ہے آج حاجی صاحب دو سال پرانی ادھار چُکاتے ہیں۔ 
ان صاحب نے دکاندار سے کہا: بابا جی، کدھر ہے آپ کا ادھار والا کھاتہ؟
دکاندار نے خوش ہوتے ہوئے کہا: یہ لیجیئے حاجی صاحب۔ 
صاحب نے پھر پوچھا؛ اچھا وہ صفحہ کدھر ہے جہاں میرا ادھار لکھا ہوا ہے؟
دکاندار نے جلدی سے صفحہ کھول کر دیتے ہوئے کہا: یہ رہا حاجی صاحب۔ 
صاحب نے اپنی انگلی اپنے نام پر رکھتے ہوئے کہا: میرے اس نام سے پہلے حاجی لکھ لو۔


Monday, November 28, 2016

اولڈ ایج ہوم


میں سائکاٹرسٹ کے پاس بیٹھا تھا , بیگم کے کہنے پہ کئی دن سے ٹائم لیا ہوا تھا , اس لئے انہیں 
 ملنے چلے آیا , 
 کیا مسئلہ ہے آپ کو .. ؟ 
 تفصیل سے زرا بتائیں .. 
 میں آنکھیں بند کئے چت لیٹا ماضی کی طرف سفر کرنے لگا اور میری زبان سے الفاظ پھوٹنے لگے 
 سب ٹھیک تھا 
 میں اپنے آفس میں مصروف رہتا اور نوشین یونیورسٹی میں لیکچرار تھی , 
 بچے سکول کالج سے آکر اکیڈمی چلے جاتے اور پیچھے گھر میں صرف اماں اور نوکرانی ہوتی تھی , 
 اماں کافی بیمار رہنے لگیں تھیں , اکثر ایسا ہوتا کہ اماں کی رات کو طبیعت خراب ہو جاتی اور ہم انہیں لیکر ہسپتال چلے جاتے جہاں چار پانچ گھنٹے کے ٹریٹمنٹ کے بعد ہمیں فارغ کر دیا جاتا , جب یہ اکثر ہونے لگا تو میری اور نوشی کی ورک روٹین خراب ہونے لگی , راتوں کو دیر سے جاگنے کی وجہ سے ہم دونوں متاثر ہو رہے تھے , ان ہی دنوں ایک دن نوشی نے مجھے کہا ... 
 سنئے اماں کی وجہ سے ہم دونوں کو خاصی ڈسٹربنس ہو رہی ہے , کیوں نا ہم انہیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آئیں 
 یہ سننا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور غراتے ہوے میں نے پوچھا کہ تم نے یہ سوچا بھی کیسے , جانتی بھی ہو ابو کی ڈیتھ کے بعد اماں نے مجھے کیسے پال پوس کر بڑا کیا 
 آپ بھی نا جزباتی ہو جاتے ہیں , میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ شہر میں بیسیوں اولڈ ایج ہوم ہیں , ہم کسی اچھے سے پرائیویٹ اولڈ ہوم کا انتخاب کریں گے جہاں میڈیکل کی بھی سہولیات ہوں تاکہ خدانخواستہ رات کو تو ہم یہاں ہوتے ہیں اگر دن میں اماں کی طبیعت بگڑ گئی تو کیا کرے گی کام والی نجمہ , آپ ایک دفعہ مسز عباسی نے جو اولڈ ہوم پروجیکٹ شروع کیا ہے وہ دیکھ آئیں ,,, 
 اچھا فی الحال اپنی بکواس بند کرو اور مجھے پڑھنے دو ,, میں نے عینک سیدھی کی اور پھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گیا لیکن میرا دماغ بار بار مسز عباسی کے بنائے اولڈ ایج ہوم کی طرح جا رہا تھا
 اگلے دن اتوار تھی اور صبح ہی صبح میں گاڑی لیکر شہر کے اس پوش علاقے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اولڈ ایج ہوم تھا , گاڑی پارک کر کے میں اس شاندار اور پرشکوہ بنگلے کی طرز پہ بنی اس عمارت میں داخل ہو گیا , جہاں میرا استقبال پودوں کو پانی دیتی مسز عباسی نے خود کیا , اس دن میں نے وہ ساری عمارت گھوم پھر کر دیکھی جہاں میرے ذہن کے مطابق واقعی ہی بوڑھے لوگوں کے لئے جنت تعمیر کی گئی تھی , صاف ستھرا ماحول , بڑا سا سرسبز لان , پرشکوہ ڈسپنسری جہاں ہر وقت ایک ڈاکٹر طعینات رہتا تھا , اور اولڈ ایج ہوم کی اپنی دو اینمبولینسز کے علاوہ وہاں زندگی کی ہر سہولت فراہم کی گئی تھی, 
 مسز عباسی سے فیس وغیرہ پوچھی تو چودہ طبق روشن ہو گئے , لیکن اماں کے آرام کے لئے مجھے وہ مناسب لگے , اب صرف اماں سے پوچھنا باقی رہ گیا تھا , 
 رات کو اماں کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا وہ بیٹھیں بڑے بڑے لفظوں والا قرآن پڑھ رہیں تھیں , میں کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور مسکرائیں , 
 میں چپ چاپ پہلو میں آکر بیٹھ گیا , اماں کا حال احوال پوچھا اور پھر چُپ .. سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بات کو کیسے شروع کروں
 یہ مشکل اماں نے خود ہی آسان کر دی ,, کیا ہوا بیٹا پریشان لگ رہے ہو !
 جی بس آپ کی وجہ سے ہی پریشانی تھی , کیسی طبیعت ہے اب 
 میں ٹھیک ٹھاک تو ہوں , مجھے کیا ہونا , بس یہ کمبخت مارا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے , 
 اماں ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے ۔۔
 بولو بیٹا !!!
 اماں میں ایک جگہ دیکھ کر آیا ہوں میں نے ہکلاتے ہوے بولنا شروع کیا , وہ آپ کی رہائش کے لئے بہت مناسب ہے , وہاں مجھے یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ آپ گھر میں اکیلی ہیں , یا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ٹھاک ہے , وہاں ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے , ماحول بھی صاف ستھرا ہے , 
 اماں کے چہرے پہ رقصاں مسکراہٹ تھم گئی تھی , ایک دفعہ ماتھے پہ بل پڑے اور پھر مسکرا دیں , بیٹا مجھے بھی کافی دن سے محسوس ہو رہا تھا کہ تم لوگوں کو کافی ڈسٹرب کر رہی ہوں , ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں , جیسے میرا لعل خوش ویسے میں خوش , اماں نے مسکراتے ہوے میرا ماتھا چوما اور میں کمرے سے نکل آیا ۔
 میرا ضمیر اس بے غیرتی پہ آمادہ نہیں تھا مگر میرے حالات کچھ اور کہتے تھے , یا شاید میں حالات کا صحیح مقابلہ نا کر سکا اور اماں کو میں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آیا 
 شروع شروع میں دو تین دن بعد میں چکر لگا لیتا تھا ,کبھی کبھی اماں کو گھر بھی لے آتا تھا اور اگلے دن پھر چھوڑ آتا , 
 پھر میرا چکر کم ہوتے گئے بس اتوار کی اتوار جانے لگا , اور پھر کچھ عرصہ پہلے تو حد ہو گئی , کاروبار کے چند مسائل کی وجہ سے میں قریبا ایک مہینہ نا جا سکا , اسی دوران وہ منحوس دن آ گیا ..
 اتوار کا دن تھا , مجھے آج ایک آدمی کے ساتھ ضروری کاروباری ملاقات کرنی تھی , ناشتہ کیا اور گاڑی میں آبیٹھا ابھی سیلف لگایا ہی تھا کہ اٹھارہ سالہ ایان بھی دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ گیا , 
 ٍڈیڈ آپ کو پتہ ہے میں گاڑی چلانا مکمل سیکھ گیا ہوں , 
 اچھا .... ؟ واہ شاباش میرا بیٹا بڑا ہوگیا ،
 ڈیڈ آپ ہمیشہ ہمیں سکول چھوڑ کر آتے ہیں آج میں آپ کو چھوڑ کر آؤں گا ۔
 میں نے ہنستے ہوے ایان سے پوچھا ،
 اچھا کہاں چھوڑنے کا ارادہ ہے اپنے پاپا کو !
 اولڈ ایج ہوم ....
 اس نے کہا ....
 اور میں ساکت ہوگیا , میرے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور ہاتھ سٹیرنگ پہ مضبوطی سے جم گئے 
 وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا , آج سنڈے ہے مجھے پتہ ہے کہ آپ گرینی سے ملنے جا رہے ہیں , میں بھی چلتا ہوں ساتھ میں آپ کو ڈرائیونگ بھی دکھاتا ہوں اپنی ..............
 مگر میں بس ایان کے پہلے جملے پہ ہی ساکت ہو چکا تھا , اسکے معصوم جملے میں میرا مستقبل چھپا تھا , میری وہ فصل جو مجھے کاٹنی ہی تھی , بچپن میں پڑھی کہانیاں اور واقعات کی طرح مجھے بھی اسی سلوک کا شکار ہونا تھا ... ........ میری آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر آ رہے تھے اور میں اپنی اماں سے اپنے اس گھٹیا سلوک سے سخت شرمندہ تھا , 
 ایان کو بلاوجہ ڈانٹ کر میں نے گاڑی سے نکالا اور تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا , اماں کو لینے اولڈ ایج ہوم جانے لگا , 
 اولڈ ایج ہوم پہنچا تو دوسری بجلی گری کہ کچھ دیر قبل ہی اماں ہارٹ اٹیک سے فوت ہو چکی تھیں اور میری معافی و توبہ کے سارے دروازے بند ہو گئے .. 

 ڈاکٹر صاحب تب سے میں انتہائی چڑچڑا ہو چکا ہوں , 
 کاروبار میں دل نہیں لگتا , 
 بلاوجہ بچوں اور ملازموں کو ڈانٹتا رہتا ہوں , 
 اکثر چھٹی والے دن سارا سارا دن قبرستان میں اماں کے سرہانے بیٹھ کر ان سے معافی مانگتا رہتا ہوں , 
 نا گھر میں دلچسپی رہی نا کاروبار میں اب بتائیں کیا اس بے سکونی , بے آرامی اور اس ضمیر کا کوئی علاج ہے جو جاگا بھی تو بے فیض ... 

 کافی دیر تک میں چپ رہا لیکن ڈاکٹر کی آواز نا آئی 
 آنکھیں کھولیں , اٹھ کر ڈاکٹر کو دیکھا تو وہ سر نیچے کئے بیٹھا رو رہا تھا , 
 ڈاکٹر صاحب ... میں دوبارہ بولا تو اس نے سر اٹھایا اور آنکھیں صاف کرکے بولا 
 اسکے علاوہ اس بے سکونی کا کوئی علاج نہیں کہ اللّٰہ سے توبہ استغفار کرتے رہا کرو , نیک کام کرو تاکہ وہ تمہارے ماں باپ کے کام آئیں اور شاید تمہیں سکون مل جائے ۔
 یہ کہتے ہوئی اسکی ہچکیاں بندھ گئیں ,اور گلوگیر آواز میں پھر بولا ۔
میں نے ایک ضروری کام سے جانا ہے آپ چلے جائیں , یہ کہتے ہوے اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ملازم کو بلا کر کلینک بند کرنے کا کہنے لگا ۔
ارے ڈاکٹر صاحب اتنی ایمرجنسی میں آپ جا کہا رہے ہیں , میں نے پوچھا تو اس نے مُڑ کر جواب دیا ۔
 اولڈ ایج ہوم !
 بابا کو لینے ........یہ کہا اور گھوم کر راہداری میں غائب ہو گیا


Sunday, November 27, 2016

بابے پھر بابے ہوتے ہیں





کہنے کو اس مضمون کا عنوان بزرگ بھی ہو سکتا تھا مگر بزرگی میں شرارت ہو سکتی ہے مسٹنڈاپن نہیں اس لئے بابے ہی ٹھیک لگتا ہے. ہمارے دور کے مسٹندے کچھ ذیادہ لوفر ہو گئے ہیں مگر پہلے کے لوفر بھی اتنے مسٹندے نہیں ہوتے تھے. یہ بابے اپنی جوانی کے دل لبھانے والے جھوٹے سچے قصے سنا کر جس طرح جوانوں کی چوری پکڑتے ہیں وہ ان کا کی حاصل ہے. 


ایسے ہی ایک بابے کے منہ سے ایک بار سننے کو ملا کہ کیا دور آ گیا ہے ایک ہمارا دور تھا جب لڑکوں کے دوست اور لڑکیوں کی سہیلیاں ہوتی ہے اب تو لڑکوں کی سہیلیاں اور لڑکیوں کے دوست ہوتے ہیں. تب ہم کسی لڑکی کے قریب ہوتے تو وہ فٹ سے کہہ دیتی دیکھو مجھے دھوکہ نہ دینا ایسا نہ ہو کہ کل کو کسی اور سے شادی کر لو ہم لڑکیاں بہت حساس ہوتی ہیں کسی کو ایک بار اپنا کہہ دیا تو پھر ساری عمر اسی کی ہو کر رہ جاتی ہیں اور ایک آج کی چوکریاں ہیں دوستی کے دوسرے دن ہی نوٹ کروا دیتی ہیں کہ دیکھو سنجیدہ نہ ہو جانا میں بس ٹائم پاس کر رہی ہوں کل کو تو کون اور میں کون. 


یہ بابے وقت کے بدلنے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ پہلے گھر بناتے وقت گھر والوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے لئے بھی ایک حصہ ہوتا تھا مہمان خانے میں مہمان کی خدمت کو ایک بندہ مختص ہوتا تھا آج کی طرح نہیں کہ صرف صوفہ سیٹ ہو بلکہ پلنگ یا چارپائی ہوتی کہ آنے والا مہمان آرام کرتا. پہلے مہمان کو رحمت تصور ہوتا تھا اور آج اپنے رویے سے رہ مت کہا جاتا ہے . 


ان بابوں سے اس لئے بھی ڈر لگتا ہے کہ قصے سنا کر نصیحتیں کرتے ہیں. ان کے پاس ملا دوپیازہ ہے، ملا لٹن ہے، متایو فقیر ہے، جٹ مانا ہیں. یہ اپنے اپنے علاقوں کے کرداروں کے نام لے کر مختلف قصوں کی مدد سے مخصوص سبق سکھانے کے لئے ہنسی مذاق میں سنا ڈالتے ہیں. ہم جیسے لونڈے انہیں لاکھ کہیں کہا یہ کردار خیالی ہیں، یہ قصے جھوٹے ہیں. یہ بابے باز نہیں آتے پھر سے کسی اگلی نشست میں ان کرداروں کے قصوں کی مدد سے شخصیت کی تعمیر کرنے بیٹھ جاتے ہیں. 


ایک محفل میں رشوت کی افادیت پر بحث ہو رہی تھی ایک بابا جوش میں دونوں ہاتھ ہوا میں کھڑا کر کے بولا مجھے ذیادہ نہیں معلوم بس اتنا جانتا ہوں کہ کچھ حرام کے تخم سے ہوتے ہیں کچھ کا تخم حرام کا ہوتا ہے اول ذکر جنتی ہو سکتا ہے اگرچہ اس کے ماں باپ جہنمی ہو مگر ثانی ذکر جہنم کی آگ کا ایندھن ہو گا . پوچھا بابیوں کہنا کیا چاہتے ہو کہنے لگے کچھ ماں باپ کی حرام کاری کی وجہ سے حرامی نسل ہوتے ہیں اور کچھ اپنی کمائی کی وجہ سے! یہ رشوت خور والے دوسری قسم کے حرامی ہیں جو اپنی نسل کو بھی حرامی بنا دیتے ہیں. ایسے سخت جملے سننے کے بعد ہمارے کئی دوستوں نے اس بابے سے ملنا چھوڑ دیا. 


یہ بابے اپنی عمر کو اپنا تجربہ بتاتے ہیں. یہ سامنے والے کی نیت کو اس کے اعمال سے پرکھنے کے قائل معلوم ہوتے ہیں ان کے یہاں benefit of doubt بہت ذیادہ پایا جاتا ہے. ایسے ہی ایک بابا جی کہا کرتے ہیں کہ برا وہ جس کی برائی پکڑی جائے چاہے اس نے کی بھی نہ ہو اور اچھا وہ جو پکڑ میں نہ آئے. ہم نے کہا بابیوں اب تو بدنامی بھی نامور کر دیتی ہے تو کہنے لگے جیسے لوگ ویسا ان کا ہیرو ہوتا ہے ہر طبقہ و گروہ کا اپنا رول ماڈل (ہیرو) ہو گا ناں. بات پلے نہ پڑی تو ہم نے کندھے اُچکا دیئے، دھیمے سے مسکرا کر بولے وکیل ہو تم؟ ہم نے سر کی جنبش سے ہاں کی. کہنے لگے وکیلوں میں سے تمہارا آئیڈیل کوئی بڑا قانون دان یا جج ہو گا ایک ڈاکو نہیں ایسے ہی جو جس شعبے کا بندہ ہے اس کا رول ماڈل اس ہی شعبے کا بندہ ہو گا ہر فرد کسی اپنے ہم پیشہ یا ہم نظریہ و عقیدہ کو ہی ماڈل بناتے ہیں. ہم نے کہا کہ اگر کوئی کسی دوسرے شعبہ کے بندے کو اپنا رول ماڈل بنا لے تو! کہنے لگے وہ بہروپیا ہے جو ایسا کرتا ہے. ہم اس کی بات سے متفق نہیں تھے مگر کسی سخت جملے سے بچنے کے لیے خاموش رہے. 


حالات و زمانے کا رونا رونے والی ایک محفل میں اہل محفل جب حاکموں کے برے کردار کو زیر بحث لائے تو ایک اور بابا جی رائےزنی کرتے ہوئے گویا ہوئے خود کو بدل لو اچھا حاکم میسر آ جائے گا چوروں کا سربراہ چوروں میں سے ہی ہو گا جیسے ہم ویسے ہمارے حاکم. 


ہمارے دوست جوانی میں ہی بابا جی ہو گئے ہیں. ان کا پسندیدہ موضوع رویے ہیں. وہ لوگوں کے رویوں پر خیال آرائی کرتے رہتے ہیں؛ ہمارے علاوہ باقی سب ہی ان کے خیالات کو سراہتے ہیں. اولاد کی تربیت پر بات ہو رہی تھی کہنے لگے اگر گھر کے سربراہ کے مزاج میں سختی ہو تو اولاد باغی ہو جاتی ہے. ملک کا حاکم و خاندان کا سربراہ اگر ہر معاملہ میں اپنی مرضی مسلط کرنے لگ جائیں تو بغاوتیں جنم لیتے ہیں اور زندگی کی آخری سانسیں تنہائی میں گزرتی ہے اگر اولاد کی قربت نصیب بھی ہو تو صحبت نصیب نہیں ہوتی. 


ہمارے ایک دوست ایک مشکل میں پھنس گئے تلاش ہو رہی تھی کسی اثر رسوخ والے بندے کی اسی سلسلے "غلطی" سے ایک بابا جی سے آمنا سامنا ہوا کہنے لگے جس کے پاس بھی جاؤ گے اس کے اثر رسوخ میں اضافہ کا باعث بنو گے! جو آج کام آئے گا کل کام بھی لے گا اور احسان مند تم ہی رہو گے اور جو کام کا آسرا دے گا وہ بھی کل کو کام نکلوا لے گا جو کرنا ہے خود کرو. ہمارے دوست بابے کی باتوں میں آ گئے اور اب وہ خود کافی اثر رسوخ والے بندے ہیں. 


بابیوں کی کوئی عمر، نسل، عقیدہ اور تجربہ لازمی نہیں بقول ہمارے ایک بابا صفت دوست کہتے ہیں بابا وہ جو زمز کی بات کہہ دے. ہم نے تو سیکھ لیا ہے ان بابیوں کی بات کو ایسے اگنور کرو جیسے یو این او کشمیر کے مسئلہ کو اگنور کرتی ہے. ان کی قربت شخصیت میں موجود "ضروری" خامیوں کے نقصاندہ ہو سکتی ہے. کیا آپ کا کبھی کسی بابے سے واسطہ پڑا ہے؟

میرا اللہ مجھے اتنے سال سے کھلا رہا ہے




کل ایک واقعہ نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیئے، 
.
بظاہر بہت معمولی سا واقعہ ہے
لیکن سوچنے والوں کیلیئے عبرت ہے:
.
میرے گھر میں کچھ روز پہلے ایک بلی، بچے دے گئی۔
مجھے بلی کے بچے بہت پسند ہیں میں انکو پیار کرنا چاہتا تھا لیکن بلی مجھے انکے قریب بھی نہیں آنے دیتی تھی۔ بلکہ اگر میں ان بچوں کی طرف تھوڑا بھی بڑھتا تھا تو وہ غرانے لگی تھی۔
.
پرسوں میں نے دیکھا کہ بلی ادھر اُدھر ٹہل رہی ہے وہ بھوکی لگ رہی تھی۔ میں نے اسے دودھ دیا ۔ وہ ابھی بھی مجھ سے ڈر رہی تھی۔
بڑی دیر بعد بھوک سے مجبور ہو کر میرے قریب آئی اور دودھ پینے لگی۔
اسی دن رات میں میں نے اسے پھر دودھ دیا۔
اگلے دن صبح جب میں دروازے کے قریب آیا تو بلی اپنے بچوں کو لیکر آئی اور میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہونے لگی۔ میرا ذہن جکڑ کر رہ گیا۔
میں نے صرف دو دفعہ اس بلی کو دودھ پینے کیلیئے دیا
تو میری اتنی ممنون و مشکور ہوگئی کہ میرے قدموں میں لوٹنے لگی
میرا اللہ!!!
میرا اللہ مجھے اتنے سال سے کھلا رہا ہے،
پلا رہا ہے،
سُلا رہا ہے،
اُٹھا رہا ہے،
بِٹھا رہا ہے،
دنیا کی ہر نعمت دے رہا ہے۔
لیکن ہم کیوں اس کے قدموں میں اپنا آپ نذر نہیں کر دیتے؟؟
ہم کیوں اس کے در پر جا کر اس کے ممنون و مشکور نہیں بن جاتے؟
اسی لیئے تو اللہ پاک نے فرمایا تھا:
وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ
اور اللہ کی ذات وہ ہے جس نے بنائے تمہارے لیئے کان، آنکھیں اور دل، لیکن تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
سورہ مومنون آیۃ 78.

ﭼﺎﺋﮯ ﭼﻬﻠﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﺍﻏﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ



ﺳﺮ ! ﭘﻠﯿﺰ , ﻣﺠﻬﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ..... ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﯿﺰ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ بیٹھ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺳﮯ بولی، ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﭽﻬﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬﮧ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﻬﯽ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺮﺍﺋﯽ، ﮐﯿﺎ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﯾﺎ ﮐﻤﯽ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺧﺪﻣﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﻬﻼ ﮐﺮ، ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ.....؟؟
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﺎﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ.....ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﺳﻤﺠﻬ ﻟﯿﺎ، ﻣﺠﻬﮯ ﺑﺘﺎﮮ ﺑﻐﯿر، مجھ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﻬﮯ ﺑﻐﯿﺮ........ پوچھ تو ﺭﮨﺎ ﮨوں، ﺗﻢ ﻣﺎﻥ جاؤ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭼﻬﻮﮌ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ، ﯾﻌﻨﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮔﻬﺮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ، ﺟﻮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮯﻗﺼﻮﺭ ہے، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ کیا سوچتے ہیں، ﻣﺠﻬ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺮ....!!! ﻭﮦ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻨﺎﻧﮯ لگی، ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺣﺪ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ...... ﺳﻤﺠﻬ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻮﮞ، ﻣﺠﻬﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺩﯾﮑﻬ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ....."ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺳﺮ.....؟؟" ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ کہ ﺭﺏ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﺁﺳﺎﻥ ہے، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ......!!
ﭘﻬﺮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺏ ﻧﺎﺭﺍ ﺽ ﺑﻬﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ...... ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﻤﺎ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ بولی......"ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ، ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻧﻔﺮﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻠﯿﺤﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﮯ، ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ سر، ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﻭﮞ .....؟؟"
ﻣﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﻬﻨﮯ ﻟﮕﺎ..... "ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﺁﭖ کی، ﺟﻮ مجھے میرے ﺭﺏ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ......؟؟" ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻌﻘﻮﻝ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ، ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﻬﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮧ ﺗﻬﯽ..... ﮐﭽﻬﮧ ﻋﺮﺻﮧ ﺍﺳﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﻣﯿﮟ گزرا، ﭘﻬﺮ ﻻﺳﭧ ﺳﻤﺴﭩﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ.....
ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ...... "ﺳﻮﺭﯼ ﺳﺮ !! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺩﮐﻬﺎﯾﺎ، محبت ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﺒﻬﯽ ﮐﺒﻬﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﺗﻬﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬ ﺑﻬﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ، جب ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﻬﯽ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ...."
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻣﯿﮟ گزرا، ﭘﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﻮﺳﭩﻨﮓ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﺮ ﻭﺍﻟﯽ، ﻣﺎﺣﻮﻝ بدلا، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﺑﮍﻫﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﻫﺴﺘﮧ ﺁﻫﺴﺘﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ....... ﺁﺧﺮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺑﻬﯽ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﻫﻦ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺤﻮ ﮨﻮﮔﺌﯽ......
ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﮐﺮ ﻣﺎﺿﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﮔﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺣﻤﻘﺎﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺍﺳﮯ
ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﻗﻮﻓﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺼﮯ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺘﯽ ﺭﮨﯽ....... پھر پوچھا، ﺳﻨﺎﻭ ﮔﻬﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ....؟؟ ﺗﻮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ، "ﮔﻬﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﺳﺮ !! ﺍﮐﯿﻠﯽ ﺑﮍﮮ ﻣﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ......"
ﻣﻄﻠﺐ........ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ، شادی ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ.....؟؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺳﺮﯼ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﻬﺎ، ﺗﻮ ﭘﻬﯿﮑﯽ ﺳﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻟﺌﮯ ﺑﻮﻟﯽ...... "ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺳﺮ ! ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﻬﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ...."
ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﮐﭗ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﻬﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﺮﺯﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﻧﮯ ﻗﻮﺕ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﭼﻬﯿﻦ ﻟﯽ، ﻣﺎﺿﯽ ﺁﻫﺴﺘﮧ ﺁﻫﺴﺘﮧ ﺯﺧﻢ ﮐﺮﯾﺪﻧﮯ
لگا، ﺟﺴﮯ ﺑﻬﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺁﺝ ﺑﻬﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬﮧ ﺭﮦ ﺭﮨﯽ ﺗﻬﯽ.......
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮑﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﻬﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﭘﺎﯾﺎ، "ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﻬﯽ.........." 
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﮐﺮﺏ ﺳﮯ بولی، "ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﭼﻬﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﺰﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻻﯾﺎ جاتا، ﺑﺲ ﻻﺗﻌﻠﻘﯽ ﮐﺎ ﮔﻤﺎﻥ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮﺗﺎ ہے......."ﭼﺎﺋﮯ ﭼﻬﻠﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﺍﻏﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ .......

ﺑﺪ ﮐﺮﺩﺍﺭ





ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺁﻥ ﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ........ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﮍﮐﮍﺍﺗﺎ سوٹ، ﺍﮐﮍﯼ ﮔﺮﺩﻥ، ﭘﺎﻟﺶ ﺟﻮﺗﮯ...... ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ...... ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﺑﻨﺪﮦ ہے، کیا ﭘﺮﺳﻨﺎﻟﭩﯽ ﮨﮯ......
ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺟﻤﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﮍ ﺟﺎﺗﯽ..... ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﭘﭩﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻧﮑﻼ ہے، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﺎﺯﮎ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺳﺮﺥ ﻧﺸﺎﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﯿﺶ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﮔﮩﺮﺍ ﻧﯿﻞ ﺩﺍﻍ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ.....؟؟
ﻛﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ....... ﮐﮧ ﺳﯿﮍﮬﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ہوں، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳﻮﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ، ﺭﺍﺕ ﮐﺴﯽ ﮐﯿﮍﮮ ﻧﮯ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ.......ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ.....؟؟
ﻭﮦ ﭘﮕﻠﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﻣﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﮑﺘﯽ، ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ.....!! ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ...... ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻢ ﮨﯽ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ...... ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ہوں، ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﮉﺗﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﺯﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ....... ﮨﺎﮞ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ....!! ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﮕﺘﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﺎﮞ ﺩﺑﺎ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮩﺖ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ....... ﯾﻮﮞ ﺳﺐ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ........
"ﮐﯿﺎ.......؟؟؟؟؟ ﻃﻼﻕ........؟؟؟؟؟"
ﺍﺳﮯ.....؟؟ ﮐﯿﻮﮞ.....؟؟ ﮐﯿﺴﮯ......؟؟؟
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﯽ......
ﮐﺌﯽ ﭼﺒﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭨﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﮐﮍﺍ ﮐﺮ ﺑﮭﺮﯼ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ...... ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺪ ﺯﺑﺎﻥ ﺗﮭﯽ، ﻓﻀﻮﻝ ﺧﺮﭺ ﺗﮭﯽ، ﺑﺪ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺗﮭﯽ.......
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ سوچ رہی تھی کہ ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﻧﮧ ہوتی ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮮ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﺘﯽ، ﺗﻮ ﺁﺝ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎ ﺳﺮﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﮨﻮﺗﺎ........
ﺟﺲ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻋﺰﺕ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﮐﮫ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮨﯽ ﺁﺝ ﺍﺳﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﺍﺭ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ..........


انصاف



ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزرافریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ… کی تواضع کی۔
کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا‘ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی ، خزانے کی نہیں“
مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے‘ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“
”ہاں ہے!“
پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“
”جی ہاں….“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔
”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“
اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“
”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“
سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“
شہنشاہ نے کہاکہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ :
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
سردا نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے ؟
شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ :
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“
”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“
”جی ہاں کیوں نہیں؟“
”وہاں بارش بھی ہوتی ہے….“
”بالکل!“
”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“
”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔
”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔

کیا کبھی آپ نماز کے لیے ترسے ؟؟




*ابو ھریرۃ رضي الله عنه سے روایت ہے*
*"ایک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے*
*مگر اسکی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی"*
*پوچھا گیا : وہ کیسے ؟؟*
*انہوں نے کہا : کیونکہ نہ وہ اپنا رکوع پورا کرتاہے اور نا سجود*
*نا قیام پورا کرتا ہے نا اس کی نماز میں خشوع ہوتا ہے* 
*حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا *
*ایک شخص اسلام میں بوڑھا ہوگیا* 
*اور ایک رکعت بھی اسنے اللہ کے لیے مکمل نہیں پڑھی*
*پوچھا گیا کیسے یا امیر المومنین ؟*
*فرمایا :
*اسنے نا اپنا رکوع پورا کیا اور نا سجود*
*امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا*
*ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا"*
*لوگ نماز پڑھیں گے مگر انکی نماز نہیں ہوگی*
*اور مجھے ڈر ہے کہ وہ زمانہ یہی زمانہ ہے"*
*امام اگر آج کا زمانہ آکر دیکھ سکتے تو کیا کہتے ؟؟*
*امام غزالی رحمه الله نے فرمایا:
*ایک شخص سجدہ کرتا ہے اس خیال سے کہ اس سجدہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرے گا*
*اس اللہ کی قسم اگر اس کے اس سجدے کا گناہ تقسیم کیا جائے تو سارا بلد ھلاک کر دیا جائے* 
*پوچھا گیا وہ کیسے ؟؟
فرمایا:
*وہ اپنا سر اپنے اللہ کے سامنے جھکاتا ہے*
*مگر اپنے نفس ،گناہوں، اپنی شہوات اور دنیا کی محبت میں مصروف ہوتا ہے*
*تو یہ کیسا سجدہ ہے ؟؟؟*
*ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا*
*میری آنکھون کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے*
*تو کیا کبھی آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپکے* *آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہو ؟؟؟*
*کیا کبھی آپ گھر کی طرف تیزی سے پلٹے صرف دو رکعت کی ادائیگی کی نیت سے ؟؟*
*کیا کبھی نماز کی محبت نے آپ کو بے چین کیا ؟؟*
*کیا کبھی آپ نماز کے لیے ترسے ؟؟*
*کیا کبھی آپ نے رات کا بے چینی سے انتظار کیا*
*تاکہ آپ اپنے رب کے ساتھ اکیلے نماز میں ملاقات کر سکیں ؟؟*
*اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :
*(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))*
*کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟*
*ابن مسعود رضي الله عنه فرماتے ہیں*
*ہمارے اسلام لانے کے چار سال بعد یہ آیت نازل ہوئی*
*اس ایت میں اللہ سبحانہ نے ہم سے شکایت کی* 
*ہم سب بہت رویے*
*اپنے قلۃ خشوع پر*
*پھر ہم گھروں سے نکلتے تو ایک دوسرے کو عتاب کرتے اور کہتے کیا تم نے اللہ سبحانہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟؟؟*
*(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))* *کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا* *وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟*
*تو لوگ گر جاتے اور رونے لگتے*
*اللہ کے اس عتاب پر*
*تو کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا اس آیت سے؟؟*
*کہ اللہ تعالی آپ سے شکوہ کر رہا ہے ؟؟*
*اپنی نمازوں کو ضائع ہونے سے بچائیں*
*اپنے تمام دوستوں کو یہ میل نشر کریں*
*اور اگر آپ پر یہ بھاری ہو تو جان لیجیئے*
*آپ کے گناہ اس کام میں رکاوٹ ہیں*
*إذا ضاقت عليك الأرض بما رحبت، وضاقت عليك نفسك بما حملت* *فاهتف ... يا الله*
*لا إله إلا الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم*

ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ



ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ،ﺍﺱ
ﭨﮑﮍﮮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺣﺼّﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺷﻤﺎﻟﯽ ﻗﻄﺐ،ﺟﻨﻮﺑﯽ
ﻗﻄﺐ،،،
ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﻮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﺍﻭﺭ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﻗﻄﺐ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮨﻮ
ﺟﺎﺋﯿﮟ،
ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﻧﺌﮯ ﺩﻭ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ
ﺟﻨﻮﺑﯽ ﻗﻄﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ -
ﺁﭖ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﭼﻠﮯ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻮﻟﯽ ﮐﯿﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺍ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﻗﻄﺐ ﮨﻮﮔﺎ-
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﺧﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺷﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ
ﮨﮯ-
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮔﻮ
ﺍﮎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﭼﺮﺍﻍ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﮯ
ﻋﻼﻭﮦ ﺭﻭﺷﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﮨﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ،،
ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺑﺰﺭ ﮔﺎﻥ ﺩﯾﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺮ ﮐﻮ
ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﮯ ﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﺗﺎﺑﻊ ﮐﺮ
ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﮯ -
ﮐﺘﺎ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﺭﮨﮯ، ﺑﮭﻮﻧﮑﮯ ﺗﻮ
ﺿﺮﻭﺭ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﭦ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﺋﮯ-

دنیا کی سب سے مہنگی تین پینٹنگز مختصر تعارف کے ساتھ


انٹر چینج نامی پینٹنگ دنیا کی سب سے مہنگی پینٹنگ ہے . اس کو بنانے والے کا نام ولیم ڈی کوننگ ہے جس نے اسکو 1955 میں پینٹ کیا. اسکو کینیتهہ نامی امریکی نے 300 ملین ڈالر میں خریدا. یوں یہ دنیا کی سب سے مہنگی پینٹنگ قرار پائی.






وین ول یو میری؟ نامی پینٹنگ دنیا کی دوسری مہنگی ترین پینٹنگ ہے جسکو 1892 میں پال گاگوئین نامی آرٹسٹ نے پینٹ کیا اور اس کو 300 ملین ڈالر میں قطر کی شہزادی شیخہ المیاسہ بنت حمد الثانی نے خریدا.






دی کارڈ پلیئر دنیا کی تیسری مہنگی ترین پینٹنگ ہے جسکو 1892/93 میں پائول کزانے نامی آرٹسٹ نے پینٹ کیا .  اسکو 2011 میں سٹیٹ آف قطر نے 273 ملین ڈالر کے عوض خریدا . 






Saturday, November 26, 2016

بیشک یہ چائے والا جیسا خوبصورت نہیں... لیکن


میں نے اس تصویر کو پہلی بار دیکھا تو روایتی انداز میں نظر انداز کر دیا ، تھوڑی دیر بعد خیال آیا کہ یہ تصویر اتنی آسانی سے نظر انداز کیے جانے کے قابل تو نہ تھی ، بے اختیار جو بے ربط الفاظ ذہن کے نہاں خانوں سے نکل کر دل کی دیواروں پر دھک دھک دستک دینے لگے وہ تھے : 
درد __ حقوق __ محبت ، لمحہ فکریہ __ 
میں تمام عمر بھی قلم گھسیٹتا رہوں تو آپ کو وہ احساس نہیں دلا سکتا جو اس تصویر پر ایک بھرپور نظر ڈالنے سے آپ کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بچہ بے شک چائے والے جیسی طلسمی شخصیت کا حامل نہیں لیکن مجھے یقین ہے بناوٹ سے پاک اس کے وجود میں ایک بے حد خوبصورت دل دھڑک رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے ہزار درجہ بہتر

Friday, November 25, 2016

کنوارا ہونے کے "الفوائد" D:

••••••تھوڑا مزاح ہو جائے•••

عطاء الحق قاسمی صاحب کہتے ہیں کہ کنوارے بندے کو یہ بڑا فائدہ ہے کہ وہ بیڈ کے دونوں طرف سے اتر سکتا ہے‘
ٹھیک کہتے ہیں ‘ میں تو کہتا ہوں کنوارے بندے کو یہ بھی بڑا فائدہ ہے کہ وہ رات کو گلی میں چارپائی ڈال کر بھی سو سکتا ہے‘‘ کمرے کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رکھ کر تازہ ہوا کا لطف اٹھا سکتا ہے‘رات کو لائٹ بجھائے بغیر سوسکتاہے۔۔۔
میں جب بھی کسی کنوارے کو دیکھتا ہوں حسد میں مبتلا ہوجاتا ہوں‘
شادی شدہ بندے کی یہ بڑی پرابلم ہے کہ وہ کنوارہ نہیں ہوسکتا‘ البتہ کنوارہ بندہ جب چاہے شادی شدہ ہوسکتاہے۔
ہمارے ہاں کنوارہ اُسے کہتے ہیں جس کی زندگی میں کوئی عورت نہیں ہوتی‘ حالانکہ یہ بات شادی شدہ بندے پر زیادہ فٹ بیٹھتی ہے‘ کنوارے تو اِس دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔
فی زمانہ جو کنوارہ ہے وہ زندگی کی تمام رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کا حق رکھتا ہے‘
وہ کسی بھی شادی میں سلامی دینے کا مستحق نہیں ہوتا‘
اُس کا کوئی سُسرال نہیں ہوتا‘
اُس کے دونوں تکیے اس کی اپنی ملکیت ہوتے ہیں‘
اُسے کبھی تنخواہ کا حساب نہیں دینا پڑتا‘
اُسے دوستوں میں بیٹھے ہوئے کبھی فون نہیں آتا کہ ’’آتے ہوئے چھ انڈے اور ڈبل روٹی لیتے آئیے گا‘‘۔
اُسے کبھی موٹر سائیکل پر کیرئیر نہیں لگوانا پڑتا‘
اُسے کبھی دوپٹہ رنگوانے نہیں جانا پڑتا‘
اُس کا کوئی سالا نہیں ہوتا لہذا اُس کی موٹر سائیکل میں پٹرول ہمیشہ پورا رہتا ہے‘
اُسے کبھی روٹیاں لینے کے لیے تندور کے چکر نہیں لگانے پڑتے‘
اُسے کبھی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی اُس کا چینل تبدیل کرکے ’’میرا سلطان‘‘ لگا دے گا‘
اُس کے ٹی وی کا ریموٹ کبھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتا‘
اُسے کبھی ٹی سیٹ خریدنے کی فکر نہیں ہوتی‘
اسے کبھی پردوں سے میچ کرتی ہوئی بیڈ شیٹ نہیں لینی پڑتی‘
اسے کبھی کہیں جانے سے پہلے اجازت نہیں لینی پڑتی‘
اسے کبھی اپنے موبائل میں خواتین کے نمبرزمردانہ ناموں سے save نہیں کرنے پڑتے‘
اسے کبھی کپڑوں کی الماری میں سے اپنی شرٹ نہیں ڈھونڈنی پڑتی‘
اسے کبھی انارکلی بازار میں مارا مارا نہیں پھرنا پڑتا‘
اسے کبھی بیڈ روم کے دروازے کا لاک ٹھیک کروانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘
اسے کبھی ٹوتھ پیسٹ کا ڈھکن بند نہ کرنے کا طعنہ نہیں سننا پڑتا‘
اسے کبھی دو جوتیاں نہیں خریدنی پڑتیں‘
اسے کبھی بیوٹی پارلر کے باہر گھنٹوں انتظار میں نہیں کھڑا ہونا پڑتا‘
اسے کبھی دیگچی کو ہینڈل نہیں لگوانے جانا پڑتا‘
اسے کبھی اپنے براؤزر کی ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘
اسے کبھی کسی کو منانا نہیں پڑتا‘
اسے کبھی کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑتیں
اسے کبھی آٹے دال کے بھاؤ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی‘
اسے کبھی موٹر سائیکل کے دونوں شیشے نہیں لگوانے پڑتے‘
اسے کبھی سٹاپ پر موٹر سائیکل گاڑیوں سے پرے نہیں روکنی پڑتی‘
اسے کبھی نہیں پتا چلتا کہ اس کا کون سا رشتہ دار کمینہ ہے‘
اسے کبھی اپنے گھر والوں کی منافقت اور برائیوں کا علم نہیں ہونے پاتا‘
اسے کبھی اپنے گھرکے ہوتے ہوئے کرائے کا گھر ڈھونڈنے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘
اسے کبھی بہنوں بھائیوں سے ملنے میں جھجک محسوس نہیں ہوتی‘
اسے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں جوڑنے پڑتے‘
اسے کبھی ماں کو غلط نہیں کہنا پڑتا‘
اس کی کنگھی اور صابن پر کبھی لمبے لمبے بال نہیں ملتے‘
اسے کبھی بدمزہ کھانے کو اچھا نہیں کہنا پڑتا‘
اسے کبھی میٹھی نیند کے لیے ترسنا نہیں پڑتا‘
اسے کبھی سردیوں کی سخت بارش میں نہاری لینے نہیں نکلنا پڑتا‘
اسے کبھی کمرے سے باہر جاکے سگریٹ نہیں پڑتا‘
اسے کبھی چھت کے پنکھے صاف نہیں کرنے پڑتے‘
اسے کبھی ’’پھول جھاڑو‘‘ خریدنے کی اذیت سے نہیں گذرنا پڑتا‘
اسے کبھی پیمپرزنہیں خریدنے پڑتے
اسے کبھی کھلونوں کی دوکانوں کے قریب سے گذرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا‘
اسے کبھی صبح ساڑھے سات بجے اٹھ کر کسی کو سکول چھوڑنے نہیں جانا پڑتا
اسے کبھی اتوار کا دن چڑیا گھر میں گذارنے کا موقع نہیں ملتا
اسے کبھی باریک کنگھی نہیں خریدنی پڑتی‘
اسے کبھی سستے آلوخریدنے کے لیے چالیس کلومیٹر دور کا سفر طے نہیں کرنا پڑتا‘
اسے کبھی الاسٹک نہیں خریدنا پڑتا‘
اسے کبھی سبزی والے سے بحث نہیں کرنا پڑتی‘
اسے کبھی فیڈر اور چوسنی نہیں خریدنی پڑتی‘
اسے کبھی سالگرہ کی تاریخ یاد نہیں رکھنی پڑتی‘
اسے کبھی پیٹی کھول کر رضائیوں کو دھوپ نہیں لگوانی پڑتی‘
اسے کبھی دال ماش اور کالے ماش میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی‘
اسے کبھی نیل پالش ریموور نہیں خریدنا پڑتا‘
اسے کبھی اپنی فیس بک کا پاس ورڈ کسی کو بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘
اسے کبھی گھر آنے سے پہلے موبائل کے سارے میسجز ڈیلیٹ کرنے کی فکر نہیں ہوتی‘
اسے کبھی ہیرکلپ نہیں خریدنا پڑتے‘
اسے کبھی موٹر کا پٹہ بدلوانے کی فکر نہیں ہوتی‘
اسے کبھی اچھی کوالٹی کے تولیے لانے کی ٹینشن نہیں ہوتی‘
اسے کبھی کسی کے خراٹے نہیں سننے پڑتے‘
اسے کبھی نیند کی گولیاں نہیں خریدنی پڑتیں ‘
اسے کبھی سکول کی فیس ادا کرنے کا کارڈ نہیں موصول ہوتا‘
اسے کبھی کرکٹ میچ کے دوران یہ سننے کو نہیں ملتا کہ ’’آفریدی اتنے گول کیسے کرلیتا ہے؟‘‘ ۔۔۔
کسی سینئر کنوارے کا شعر ہے کہ۔۔۔!!!
’’ہم سے بیوی کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کوبھی تمنا تھی کہ بیاہے جاتے

عطاء الحق قاسمی صاحب کہتے ہیں کہ کنوارے بندے کو یہ بڑا فائدہ ہے کہ وہ بیڈ کے دونوں طرف سے اتر سکتا ہے‘
ٹھیک کہتے ہیں ‘ میں تو کہتا ہوں کنوارے بندے کو یہ بھی بڑا فائدہ ہے کہ وہ رات کو گلی میں چارپائی ڈال کر بھی سو سکتا ہے‘‘ کمرے کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رکھ کر تازہ ہوا کا لطف اٹھا سکتا ہے‘رات کو لائٹ بجھائے بغیر سوسکتاہے۔۔۔
میں جب بھی کسی کنوارے کو دیکھتا ہوں حسد میں مبتلا ہوجاتا ہوں‘
شادی شدہ بندے کی یہ بڑی پرابلم ہے کہ وہ کنوارہ نہیں ہوسکتا‘ البتہ کنوارہ بندہ جب چاہے شادی شدہ ہوسکتاہے۔
ہمارے ہاں کنوارہ اُسے کہتے ہیں جس کی زندگی میں کوئی عورت نہیں ہوتی‘ حالانکہ یہ بات شادی شدہ بندے پر زیادہ فٹ بیٹھتی ہے‘ کنوارے تو اِس دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔
فی زمانہ جو کنوارہ ہے وہ زندگی کی تمام رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کا حق رکھتا ہے‘
وہ کسی بھی شادی میں سلامی دینے کا مستحق نہیں ہوتا‘
اُس کا کوئی سُسرال نہیں ہوتا‘
اُس کے دونوں تکیے اس کی اپنی ملکیت ہوتے ہیں‘
اُسے کبھی تنخواہ کا حساب نہیں دینا پڑتا‘
اُسے دوستوں میں بیٹھے ہوئے کبھی فون نہیں آتا کہ ’’آتے ہوئے چھ انڈے اور ڈبل روٹی لیتے آئیے گا‘‘۔
اُسے کبھی موٹر سائیکل پر کیرئیر نہیں لگوانا پڑتا‘
اُسے کبھی دوپٹہ رنگوانے نہیں جانا پڑتا‘
اُس کا کوئی سالا نہیں ہوتا لہذا اُس کی موٹر سائیکل میں پٹرول ہمیشہ پورا رہتا ہے‘
اُسے کبھی روٹیاں لینے کے لیے تندور کے چکر نہیں لگانے پڑتے‘
اُسے کبھی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی اُس کا چینل تبدیل کرکے ’’میرا سلطان‘‘ لگا دے گا‘
اُس کے ٹی وی کا ریموٹ کبھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتا‘
اُسے کبھی ٹی سیٹ خریدنے کی فکر نہیں ہوتی‘
اسے کبھی پردوں سے میچ کرتی ہوئی بیڈ شیٹ نہیں لینی پڑتی‘
اسے کبھی کہیں جانے سے پہلے اجازت نہیں لینی پڑتی‘
اسے کبھی اپنے موبائل میں خواتین کے نمبرزمردانہ ناموں سے save نہیں کرنے پڑتے‘
اسے کبھی کپڑوں کی الماری میں سے اپنی شرٹ نہیں ڈھونڈنی پڑتی‘
اسے کبھی انارکلی بازار میں مارا مارا نہیں پھرنا پڑتا‘
اسے کبھی بیڈ روم کے دروازے کا لاک ٹھیک کروانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘
اسے کبھی ٹوتھ پیسٹ کا ڈھکن بند نہ کرنے کا طعنہ نہیں سننا پڑتا‘
اسے کبھی دو جوتیاں نہیں خریدنی پڑتیں‘
اسے کبھی بیوٹی پارلر کے باہر گھنٹوں انتظار میں نہیں کھڑا ہونا پڑتا‘
اسے کبھی دیگچی کو ہینڈل نہیں لگوانے جانا پڑتا‘
اسے کبھی اپنے براؤزر کی ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘
اسے کبھی کسی کو منانا نہیں پڑتا‘
اسے کبھی کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑتیں
اسے کبھی آٹے دال کے بھاؤ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی‘
اسے کبھی موٹر سائیکل کے دونوں شیشے نہیں لگوانے پڑتے‘
اسے کبھی سٹاپ پر موٹر سائیکل گاڑیوں سے پرے نہیں روکنی پڑتی‘
اسے کبھی نہیں پتا چلتا کہ اس کا کون سا رشتہ دار کمینہ ہے‘
اسے کبھی اپنے گھر والوں کی منافقت اور برائیوں کا علم نہیں ہونے پاتا‘
اسے کبھی اپنے گھرکے ہوتے ہوئے کرائے کا گھر ڈھونڈنے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘
اسے کبھی بہنوں بھائیوں سے ملنے میں جھجک محسوس نہیں ہوتی‘
اسے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں جوڑنے پڑتے‘
اسے کبھی ماں کو غلط نہیں کہنا پڑتا‘
اس کی کنگھی اور صابن پر کبھی لمبے لمبے بال نہیں ملتے‘
اسے کبھی بدمزہ کھانے کو اچھا نہیں کہنا پڑتا‘
اسے کبھی میٹھی نیند کے لیے ترسنا نہیں پڑتا‘
اسے کبھی سردیوں کی سخت بارش میں نہاری لینے نہیں نکلنا پڑتا‘
اسے کبھی کمرے سے باہر جاکے سگریٹ نہیں پڑتا‘
اسے کبھی چھت کے پنکھے صاف نہیں کرنے پڑتے‘
اسے کبھی ’’پھول جھاڑو‘‘ خریدنے کی اذیت سے نہیں گذرنا پڑتا‘
اسے کبھی پیمپرزنہیں خریدنے پڑتے
اسے کبھی کھلونوں کی دوکانوں کے قریب سے گذرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا‘
اسے کبھی صبح ساڑھے سات بجے اٹھ کر کسی کو سکول چھوڑنے نہیں جانا پڑتا
اسے کبھی اتوار کا دن چڑیا گھر میں گذارنے کا موقع نہیں ملتا
اسے کبھی باریک کنگھی نہیں خریدنی پڑتی‘
اسے کبھی سستے آلوخریدنے کے لیے چالیس کلومیٹر دور کا سفر طے نہیں کرنا پڑتا‘
اسے کبھی الاسٹک نہیں خریدنا پڑتا‘
اسے کبھی سبزی والے سے بحث نہیں کرنا پڑتی‘
اسے کبھی فیڈر اور چوسنی نہیں خریدنی پڑتی‘
اسے کبھی سالگرہ کی تاریخ یاد نہیں رکھنی پڑتی‘
اسے کبھی پیٹی کھول کر رضائیوں کو دھوپ نہیں لگوانی پڑتی‘
اسے کبھی دال ماش اور کالے ماش میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی‘
اسے کبھی نیل پالش ریموور نہیں خریدنا پڑتا‘
اسے کبھی اپنی فیس بک کا پاس ورڈ کسی کو بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘
اسے کبھی گھر آنے سے پہلے موبائل کے سارے میسجز ڈیلیٹ کرنے کی فکر نہیں ہوتی‘
اسے کبھی ہیرکلپ نہیں خریدنا پڑتے‘
اسے کبھی موٹر کا پٹہ بدلوانے کی فکر نہیں ہوتی‘
اسے کبھی اچھی کوالٹی کے تولیے لانے کی ٹینشن نہیں ہوتی‘
اسے کبھی کسی کے خراٹے نہیں سننے پڑتے‘
اسے کبھی نیند کی گولیاں نہیں خریدنی پڑتیں ‘
اسے کبھی سکول کی فیس ادا کرنے کا کارڈ نہیں موصول ہوتا‘
اسے کبھی کرکٹ میچ کے دوران یہ سننے کو نہیں ملتا کہ ’’آفریدی اتنے گول کیسے کرلیتا ہے؟‘‘ ۔۔۔
کسی سینئر کنوارے کا شعر ہے کہ۔۔۔!!!
’’ہم سے بیوی کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کوبھی تمنا تھی کہ بیاہے جاتے