Thursday, December 15, 2016

پرائیوٹ سکولز



اچی میں پان کی دکان اور اسٹیٹ ایجنسی سے بھی زیادہ تعداد میں اگر کوئی چیز ہے تو وہ انگریزی میڈیم گرائمر اسکول ہیں جہاں ایک کثیر تعداد میں طلبہ تمام علوم کی تعلیم انگریزی زبان میں حاصل کرتے ہیں۔ یہ اسکول ہر محلہ نہیں بلکہ تقریباً ہر گلی میں موجود ہیں اور شائد سرکاری اسکولوں سے بھی زیادہ تعلیم کی خدمت یہی ادارے فراہم کر رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے مقبول ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آپ کو دور دراز کا فاصلہ طے نہیں کرنا پڑتا بلکہ گھر کا کوئی بھی بڑا دروازے پہ کھڑے ہوجائے تو بچوں کو اسکول تک جاتے دیکھ سکتا ہے۔ دوسری خصوصیت ان اسکولوں کی فیسیں ہیں جو نہایت قلیل یعنی چند سو روپے ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ یہاں اساتذہ کو بھی تنخواہ کے نام پہ دو سے پانچ ہزار دیئے جاتے ہیں اور حکومت کا کم سے کم اجرت کا قانون کم از کم ان اسکول کے اساتذہ پہ شائد لاگو ہی نہیں ہوتا۔ ان اسکولوں میں عام طور پہ محلے کی خواتین ہی بطور اساتذہ کام کرتی ہیں کیونکہ ان اسکولوں میں صرف پیدل آنے والا استاد ہی نوکری کرسکتا ہے ورنہ ان اسکولوں میں تو اتنی بھی تنخواہ نہیں ملتی کہ چنگچی کا کرایہ نکل سکے۔
یقیناً آپ سوچ رہے ہونگے کہ ان اسکولوں کی سب سے بڑی خصوصیت تعلیم کا تو ذکر ہی نہیں تو جناب ان اسکولوں میں جو تعلیم فراہم کی جاتی ہے اسکا ذکر کافی سرسری انداز میں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان اسکولوں میں ملازمت حاصل کرنے کہ لئے اساتذہ کی اہلیت اسناد کی صورت میں کم سے کم دس جماعت اور قابلیت میں اسکو مائی بیسٹ فرینڈ یاد ہو تو کافی ہے۔ میں نے آج تک ایسی کوئی لڑکی نہیں دیکھی جس نے اسکول میں نوکری کی خواہش کی ہو اور دو چار دن میں ہی اسکو نوکری نا مل گئی ہو کیونکہ ان اسکولوں کی اساتذہ میں نوکری چھوڑنے کی رفتار کافی تیز ہوتی ہے اور وجہ نا تو کم تنخواہ اور نا ہی اسکول منیجمنٹ ہوتی ہے بلکہ گمان غالب ہے کہ سب سے زیادہ تعداد میں نوکری چھوڑنے کی وجہ شادی کا طے ہوجانا ہے۔ان اسکولوں میں پڑھانے والی ٹیچرز کیونکہ عام طور پہ محلے کی ہی ہوتی ہیں تو شام کو ٹیوشن والی باجی بھی یہی ہوتی ہیں اور ان بچوں کا آٹھویں تک اچھے نمبروں سے پاس ہونا بھی نہایت آسان ہوتا ہے۔ اچھے اسکولوں میں تو امتحان سے قبل سیلیبس نامی ایک چیز دی جاتی ہے جبکہ ان اسکولوں میں سیلیبس سے بھی آگے پانچ یا چھ سوالوں پہ نشان لگادیا جاتا ہے کہ یہ امتحان میں آئیں گے۔ ان کو ایجوکیشن اسکولوں میں مائ بیسٹ فرینڈ کے مضمون کے ذریعے عورت اور مرد کی مساوات کی اعلی مثال قائم کی جاتی ہے کیونکہ تمام لڑکے اور  لڑکیوں کا بیسٹ فرینڈ “علی یا احمد” نامہ لڑکا ہوتا ہے جو ہر سال امتحان میں فسٹ آتا ہے اور لکھنے والا بچہ سیکنڈ۔
ان اسکولوں میں میرا سکول نامی مضمون میں لکھوایا جاتا ہے کہ ہمارے اسکول میں ایک کھیلوں کا میدان ہے جبکہ زیادہ تر اسکول اسی گز سے ایک سو بیس گز کے مکان میں اور کچھ تو فلیٹ میں بھی قائم ہوتے ہیں اور یہیں سے بچوں کو پتہ چلتا ہے کہ حکومتی ترقی کے اشتہار اور ان اسکولوں کے میرا اسکول مضمون میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔اگر آپ اتنے غریب نہیں کہ بچوں کو سرکاری اسکول بھیجیں لیکن آپ کی ماہانہ آمدنی حکومت کی کم سے کم ماہانہ اجرت جتنی ہے تو یہ اسکول اس لحاظ سے بہتر ہیں کہ ان سے فارغ التحصیل ہونے کہ بعد بچہ کم سے کم اپنا نام اور پتہ انگریزی میں ضرور لکھ سکے گا۔ البتہ انٹر کا فارم بھروانے کہ لئے اسکو لازمی کسی تعلیم یافتہ بندے کی ضرورت پڑے گی