Sunday, December 04, 2016

پیزا کے آٹھ ٹکڑے اسے زندگی کا مطلب سمجھا گئے تھے




پیزا کے آٹھ ٹکڑے اسے زندگی کا مطلب سمجھا گئے تھے

بیوی نے کہا - آج دھونے کے لئے زیادہ کپڑے مت نکالنا ...
کیوں؟ شوہر نے کہا ..
- آپ کی کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی ...
- کیوں؟
- اپنے نواسی سے ملنے بیٹی کے یہاں جا رہی ہے، کہہ رہی تھی ...
- ٹھیک ہے، زیادہ کپڑے نہیں نکالتا ...
- اور ہاں !!! پانچ سو روپے دے دوں اسے؟ ..
- کیوں؟ ابھی عید آ ہی رہی ہے، تب دے دیں گے ...اور بھی دے دیں گے
- ارے نہیں بابا !! غریب ہے بیچاری، بیٹی- نواسی کے یہاں جا رہی ہے، تو اسے بھی اچھا لگے گا ... اور اس مہنگائی کے دور میں اس کی تنخواہ سےکیا ہوگا۔ اپنوں کے پاس جا رہی ہے،کچھ ہاتھ میں ہوگا تو اچھا لگے گا !!
- تم بھی نا ... ضرورت سے زیادہ ہی جذباتی ہو جاتی ہو ...
- ارے نہیں ... فکر مت کرو ... میں آج کا پیزا کھانے کا پروگرام منسوخ کر دیتی ہوں ...خواہ مخواہ 500 روپے اڑ جائیں گے، باسی پائو کے ان آٹھ ٹکڑوں کے پیچھے ...
- واہ، واہ ... کیا کہنے !! ہمارے منہ سے پیزا چھین کر ماسی کی پلیٹ میں؟
تین دن بعد
... پوچھا لگاتی ہوئی كام والی ماسی سے پوچھا ...
- کیا ماسی ؟، کیسی رہی چھٹی؟
- بہت اچھی ہوئی صاحب ... باجی جی نے پانچ سو روپے دیے تھے نا ..
- تو ہوآئی بیٹی کے یہاں سے... مل لیں اپنی نواسی سے ..۔۔
- جی ہاں بھائی ... مزا آیا، دو دن میں 500روپے خرچ کر د یے ...
- اچھا !! مطلب کیا کیا 500روپے کا؟
- نواسی کے لئے 150روپے کی فراک، 40روپے کی گڑیا، بیٹی کو 50روپے کے پیڑے دئے ، 50 روپے کے ڀیڈے محلّےکےلوگو میہ 60 روپے کرایہ کے لگ گئے .. 25 روپے کی چوڑیاں بیٹی کے لئے اور داماد کے لئے 50روپے کا بیلٹ لیا اچھا سا ... بچے ہوئے 75روپے نواسی کو دے دیے کاپی- پنسل خریدنے کے لئے ... جھاڑو پوچھا کرتے ہوئے پوراحساب اس کی زبان پر رٹا ہوا تھا ...
- 500روپے میں اتنا کچھ ؟؟؟ وہ حیرت سے دل ہی دل میں غور کرنے لگا ...
اس کی آنکھوں کے سامنے آٹھ ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا بڑا سا پیزا گھومنے لگا، ایک ایک ٹکڑا اس کے دماغ میں ہتھوڑا مارنے لگا ... اپنے ایک پیزا کے خرچ کاموازنہ وہ كام والی ماسی کے خرچ سے کرنے لگا ... پہلا ٹکڑا بچے کی ڈریس کا، دوسرا ٹکڑا پیڑےکا، تیسرا ٹکڑا محلے کے لوگو کے ڀیڈے چوتھا کرایہ کا، پانچواں گڑیا کا، چھٹا ٹکڑا چوڑيوں کا، ساتواں داماد کے بیلٹ کا اور آٹھواں ٹکڑا بچی کی کاپی پینسل کا ..
آج تک اس نے ہمیشہ پیزا کا اوپری حصہ ہی دیکھا تھا، کبھی پلٹ كر نہیں دیکھا تھا کہ پیزا پیچھے سے کیسا لگتا ہے ... لیکن آج كام والی ماسی نے پیزا کا دوسراحصہ دکھا دیا تھا ... پیزا کے آٹھ ٹکڑے ٹکڑے اسے زندگی کا مطلب سمجھا گئے تھے ۔.. زندگی کے لئے خرچ یا خرچ کے لئے زندگی کا جدید مفہوم ایک جھٹکے میں اسے سمجھ میں آگیا۔
انتخاب