Monday, December 12, 2016

زبان غیر سے۔۔۔۔۔۔ بکواس


 ایک مدت سے خواہش تھی کہ اپنی بے سروپا بکواس سے یار لوگوں کو بور کیا جائے۔ لیکن احباب کی خوش قسمتی آڑے آتی رہی کہ یہ ایک خواہش ہی رہی اور وہ صاف بچتے رہے۔ مگر اب لگتا ہے کہ ان کے ستارے گردش میں آ گئے ہیں اور میں باقاعدگی سے انھیں بور کر سکوں گا۔

پھر خیال آیا کہ آخر اس لغویت کا ، اس بکواس کا کچھ تو عنوان ہونا چاہئے۔ شاعروں اور ادیبوں کے دیوانوں سے لے کر مجلے تک چھان مارے مگر گوہر بکواس ہاتھ نہ آیا۔ تنگ آ کر ایک بار پھر سے سر کھپانا شروع کیا۔ جب اچھی طرح کھپ گیا تو عنوان بھی مل گیا۔ خواجہ حیدر علی آتش کی ایک مشہور غزل کا شعر ہے۔
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے۔

سو اپنے مضمون کا عنوان آتش سے مستعار لینا پڑا۔ بعد میں احساس ہوا کہ اس میں بھی حکمت پوشیدہ 
ہے کہ اگر کل کو لوگ اس بکواس کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے پسند کریں اور میرا گھیراؤ کرنا چاہیں تو بڑی صفائی سے دامن بچایا جا سکتا ہے کہ دیکھو میاں۔ یہ حقیقت افشانی کسی زبان غیر کا کرشمہ ہے ۔ ہم تو ازل سے آپ کے بہی خواہ ہیں۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پان شاپ ، ٹی سٹال ، بس سٹاپ ، باربر شاپ وغٰیرہ جہاں بھی دو یا دو سے زیادہ افرادجمع ہوں ، وہاں بڑی اعلیٰ درجے کی بکواس سننے کو ملتی ہے۔ یہ واحد کام ہے جو ہم 24 گھنٹے کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اور یہ واحد فیلڈ ہے جس میں دنیا کی کوئی قوم ہماری برابری نہیں کر سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا جائے ۔ اگر حکومت اس پر توجہ دے تو اس شعبے کی ترقی کے بڑے روشن امکانات ہیں۔ بلکہ اعلیٰ درجے کے بکواسیوں کو دوسرے ممالک کو برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔