Thursday, December 15, 2016

تندور والی



وہ  تندور پر روٹیاں بنا رہی تھی ۔
پسینے میں ڈوبی ۔ کمر سے نیچے تک آتے ہوئے لمبے لیکن بکھرے ہوئے بال۔ پرانے سے بےرنگ کپڑے ۔ اوپر پھٹے پرانے کپڑے کا "ایپرن " سا پہنا ہوا۔ چہرے پر راکھ کی لمبی سی لکیر ۔ گال تندور کی حدت سے دہکتے ہوئے۔
عجیب نظارہ تھا۔ میں اپنے چچا کے گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ دروازے کے قریب لگے مٹی کے گھریلو تندور پر روٹیاں لگاتی اس لڑکی پر نظر پڑی اور پھر۔۔۔ پڑی ہی رہی۔ جب تک کہ چچی جان کھنکھار کر مجھے ہوش میں نہ لے آئیں۔ میں تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور آگے بڑھ گیا جبکہ وہ۔۔۔ وہ روٹیاں لگانے میں ہی مگن رہی۔ اسے شاید پتہ ہی نہ چلا کہ کب کوئی اسے دیکھ کر بُت بنا رہ گیا۔
۔(نوٹ: ہمارے قبائلی علاقے میں گھروں میں مٹی کے "کھڑے تندور" ہوتے ہیں جن میں لکڑی جلا کر روٹی بنائی جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک وقت ایک گھر میں تندور گرم کیا جاتا ہے تو پڑوسن بھی ادھر ہی آکرروٹیاں بنا لیتی ہے۔ اسی طرح دوسرے وقت پڑوسن کے گھر میں تندور گرم ہوتا ہے تو اول الذکر خاتون ادھر جا کر روٹیاں بنا لیتی ہے۔ یوں "ریسورس شئیرنگ" کے تحت  بچت بھی ہو تی ہے اور "پڑوسنوں کی گپ " بھی۔) 
۔
خیر۔ میں نے حُسن اور خوبصورتی کم نہیں دیکھی تھی زندگی میں لیکن اس لڑکی کی بات ہی کچھ اور تھی۔ شدید گرمی کے موسم میں تندور پر روٹیاں لگاتے ہوئے جو حال اس کا تھا، اسے حسین لگنا نہیں چاہئیے تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس سے پہلے (یا اس کےبعد) ایسا مسمرائز کر دینے والاحُسن میں نے زندگی بھر نہیں دیکھا۔
وہ روٹیاں بنا کر چلی گئی تومیں نے چچی سے پوچھا یہ لڑکی کون تھی؟ چچی نے پڑوسی کا نام بتا کر کہا فلاں کی بیٹی ہے نا۔ زرمینہ۔ (شناخت چھپانے کیلئے نام بدل دیا گیا ہے)۔ تم نے بچپن میں دیکھا نہیں تھا کیا؟ یہ تو ہمیشہ سے ہمارے گھر آتی رہتی تھی۔ نام سنا تو یاد آیا کہ اسے واقعی بچپن میں دیکھا تھا۔ مجھ سےتین چار سال چھوٹی ہوگی ۔ بچپن میں بھی خوبصورت تھی۔ لیکن بچے تو سب ہی خوبصورت ہوتے ہیں اور پھر وہ عمر "اِس نظر" سے دیکھنے والی ہوتی بھی نہیں۔
میں نے چچی سے اس کے بارے میں مسلسل کئی سوال کئے تو وہ ہنس پڑیں۔ چھیڑتے ہوئے بولیں لگتا ہے پسند آ گئی ہے۔ ویسے لڑکی بہت اچھی ہے۔ کہو تو رشتہ مانگ لیں اس کا؟ میں نے ہنس کر چچی کو تو ٹال دیا لیکن ان کی بات نے راستہ ضرور دکھایا۔ والدہ سے بات کرنے کا سوچا لیکن ادھوری تعلیم کا خیال آیا توخاموش ہو گیا۔ موبائل وغیرہ ابھی گاؤں میں زیادہ عام نہیں ہوئے تھے اسلئے محترمہ سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ یا موقع ظاہر ہے نہیں تھا۔ چچا ہی کے گھر ایک آدھ بار نظر آئی لیکن میں نے کبھی اس پر یا چچی پر  اپنے ذہن میں پکنے والی کھچڑی ظاہر نہیں ہونے دی۔ کرَش کہہ لیں۔ محبت کہہ لیں۔ یا کچھ بھی۔ بس اتنا تھا کہ جب بھی اس کی بولتی ہوئی آنکھوں کا خیال آتا تھا، دل میں ایک میٹھی سی چُبھن ہوتی تھی۔ خیر۔
ایک ڈیڑھ سال بعد میں چھُٹیوں میں گاؤں گیا تو چچا کے گھر وہ نظر آگئی۔ لیکن یہ وہ تو نہیں تھی۔ یہ تو کوئی کھنڈر تھی۔ چہرہ زرد، آنکھیں بےجان، پلکیں اور بھنویں غائب۔ دل میں ایک گھونسا سا لگا۔ چچی سے پوچھا یہ زرمینہ کو کیا ہوا۔ چچی نے بتایا کہ اس بےچاری کو تو کینسر کی موذی بیماری نے جکڑ لیا ہے۔ اس کا غریب باپ جو خود بھی بیمار رہتا ہے، اتنا مہنگا علاج برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے بھائی بھی بےروزگار ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے یہ موت کے منہ میں جا رہی ہے۔ مجھے اس کا حال دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔ لیکن  چاہ کر بھی میں اس کیلئے کچھ نہ کر سکتا تھا کیونکہ نہ کوئی رشتہ تھا نہ کوئی واسطہ اور نہ اپنی مالی حالت ایسی تھی کہ اس کیلئے کچھ کر سکتا کیونکہ میں تو خود ابھی طالبعلم ہی تھا۔ اسلئے دل پر پتھر رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
وقت یوں ہی گزرتا گیا ۔میری تعلیم مکمل ہو گئی اور مزدوری شروع کر دی۔ کافی عرصہ بعد عید پر گاؤں گیا تو چچا کے گھر اچانک وہ نظر آ گئی۔ لیکن یہ  وہ  بیمار زرمینہ تو نہیں تھی۔ یہ تو وہی پہلی والی زرمینہ تھی۔ وہی اُجلا حُسن، وہی آنکھوں کی روشنی، وہی دھیمی دھیمی سی مسکراہٹ ۔ میں تقریباْ دوڑ کر چچی کے کمرے میں گیا اور ان سے پوچھا یہ سب کیا ہے؟ زرمینہ تو بیمار نہیں تھی؟
چچی نے جواب میں جو بتایا وہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ زرمینہ کے گھر والوں کو کسی نے مشورہ دیا تھا کہ اسے علاج کیلئے لاہور لے جاؤ۔ وہاں کینسر کا ہسپتال ہے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو جاتا ہے۔ زرمینہ کے گھر والوں کو امید تو کوئی نہیں تھی کہ اس دور دراز قبائلی علاقے سے جانے والوں کا  لاہورکے ہسپتال میں کوئی بغیر  سفارش علاج کرے گا لیکن ایک موہوم سی امید کے سہارے جیسے تیسے کر کے لاہور پہنچے۔ ہسپتال والوں نے مفت علاج کی حقداری کی تصدیق ہونے پر اس کا علاج شروع کیا۔ علاج کافی لمبا، تکلیف دہ اور صبرآزما تھا لیکن اللہ نے کرم کیا اور زرمینہ بالکل ٹھیک ہوگئی۔
 چچی کی بات سن کر میری آنکھوں میں اپنے بچپن کا ایک منظر کوندا اور مجھے وہ "ایک روپیہ" یاد آیا (جو کینسر ہسپتال کے چندے کیلئے دیا تھا)۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرا وہ  ایک روپیہ ضائع نہیں ہوا تھا۔ یہ سوچ کر دل ہی دل میں خود کو تھپکی دی کہ زرمینہ کے ٹھیک ہونے میں میرا بھی حصہ ہے۔
زرمینہ ٹھیک ہو گئی تھی۔ میں بھی اب مزدوری کا "مالک" تھا۔ بظاہر سب کچھ "فِٹ" نظر آرہا تھا اور میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے کافی لمبی پلاننگ کر لی کہ  فوراْ  گھر جا کرامی جان سے بات کرنی ہے اور۔۔۔۔۔۔
اچانک کمرے میں رکھی ایک چارپائی سے  بندھی "زانگو" (پنگھوڑے) سےکسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔ میں پنگھوڑے کی طرف گیا تو دیکھا کہ ایک خوبصورت سا چند ماہ کا بچہ لیٹا رو رہا ہے۔میں نے حیرانی سے  چچی سے پوچھا یہ بچہ کون ہے؟
چچی نے جواباْ جو کہا اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ 
۔
تحریر: شا زلمے خان۔