Friday, December 02, 2016

اگر سورج نہیں ہوتا تو کیا ہوتا ؟


سورج  کی جسامت زمین سے تینتیس ہزار گناہ بڑی ہے جبکہ یہ سو ارب ہائیڈرجن بم کے متوازی توانائی  ہر سیکنڈ میں پیدا کرتا ہے ، لہذا سورج کی بھاری بھرکم جسامت اسکو کائنات کے نظام میں ایک اہم مرکز بنادیتی ہے جس کے زیر اثر تمام سیارے ایک مدار میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب سورج سے خارج ہونیوالی توانائی کی لہریں بھی زمین کا درجہ حرارت متوازی رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر سورج دنیا یا کائنات سے غائب ہوجائے تو سوچیے کے زمین یا کائنات پر اسکے کیا اثرات پڑیں گے۔ ایسے ہی بعض اثرات ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔





کشش ثقل
سورج تمام سیاروں کو ایک مدار میں رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام سیارے ایک مدار میں گردش کرتے رہتے ہیں تاہم اگر سورج غائب ہوجائے تو اس سے کشش ثقل ختم ہوجائے گی اور تمام سیارے خلا میں مدار میں گھومنے کے بجائے سیدھا پرواز کرنا شروع کردینگے جبکہ آپس میں بھی ٹکرانے کے امکانات زیادہ ہیں۔




فصل، پودے اور نباتات کی موت
اگر سورج کائنات میں موجود نہیں ہوگا یا اچانک غائب ہوجائے گا تو سب سے زیادہ منفی اثرات اسکے دنیا میں پودے، فصل اور نباتات پر مرتب ہونگے اور نباتات سمیت وہ پودے جو ہمارے لئے خوراک پیدا کرنے کا کام سرانجام دیتے ہیں موت کا شکار ہوجائیں گے۔


برف کا راج

سورج کا کائنات سے غائب ہوجانا یقینی طور پر خطے کے درجہ حرارت میں کمی کا سبب بنے گا اور دنیا کا درجہ حرارت منفی ایک سو پچاس ڈگری فارن ہائیٹ تک بتدریج گر جائے جس سے دنیا کے ہر کونے میں برف کا راج ہوگا۔



چاند اور ستاروں کا عدم ظاہر ہونا

 اگر سورج غائب ہوجائے تو چاند اور ستاروں  کا نظر آنا بھی بند ہوجائے گا کیونکہ  یہ اجسام فلکی اپنی روشنی خود پیدا نہیں کرتے بلکہ یہ سورج کی سورج کے غائب ہوجانے سے دنیا پر دائمی طور پر اندھیرے کی حکمرانی ہوجائے گی اور دنیا کے ہر حصے میں اندھیری رات ہوگی کیونکہ سورج روشنی کا اہم ذریعہ ہے۔ روشنی کے عکس میں نظر آتے ہیں۔