Wednesday, November 23, 2016

سوچئے اور امیر ہو جائیے




سوچئے  اور  امیر ہو جائیے
دنیا میں اتنی حکمرانی حکمرانوں نے نہیں کی  جتنی حکمرانی کتابوں نے کی ہے،حکمرانی  کا مطلب  ہے چھا جانا ، حکمرانی کا مطلب  دلوں پر اثر کرنا ، حکمرانی کا مطلب ہے  گرفت میں لے کر آنا۔ اتنا اثر لوگوں نے نہیں چھوڑا  جتنا کتابوں نے چھوڑا ہے ۔ کتابیں بھی کئی طرح  کی ہو سکتی ہیں جیسے مذہبی، نصابی،سائنسی وغیر وغیرہ۔ ایک شخص جس کا نام اینڈریو کارنیگی تھا  ، یہ غریب کا بیٹا تھا غربت کی وجہ سے پڑھ نہیں سکا اور  مزدوری کرنے لگ پڑا، ان پڑھ ہونے کی وجہ سے اسے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا  اور کام بھی  کبھی ایک  جگہ پہ  ہوتا اور  کبھی دوسری جگہ ، پھر اسےایک فیکٹری میں لیبرکی جاب مل گئی، اس  کے اندر ترقی کرنے ، کامیاب ہونے اور آگے بڑھنے کا بہت زیادہ شوق تھا  اسی شوق کی وجہ سے  وہ  کچھ سالوں میں ترقی کرتا ہو سپر وائز ر بن گیا، پھر ترقی کرتے کرتے اس نے اپنی فونڈری  لگائیاور یوں کچھ سالوں بعد  وہ امریکہ کا سب سے امیر ترین  شخص بن گیا ۔ امیر  بننے کے بعد اس نے اپنے اثاثے 500 بلین  کے عوض گورنمنٹ کے نام کردیئے ۔ 500 بلین ڈالر میں سے اس  نے350 ڈالر سے ملک میں لائبریریاں ، ریسرچ سنڑ بنوا دیئے۔
اتنا  امیر  اور کامیاب  ہونے کے بعد اس کے اندر  یہ خواہش تھی کہ  جس  طرح میں کامیاب ہوا  جو تکنیک میں نے استعمال کیں کسی طرح یہ تکنیک دنیاکوبھی پتا لگ جائے۔  اس نے اخبار میں  ایک  اشتہار دیا   کہ مجھے ایک ایسےریسرچرکی ضرورت ہے جو مجھ پر ریسرچ کر سکے ۔ بڑی محنت کے بعد اسے ایک نوجوان ملا جس کا نام  نپولین ہل تھا ۔ دونوں کے درمیان معاہدہ یہ  طے پایا  کہ کام  بغیر  تنخواہ کے ہو گا ، یہ اینڈریوکارنیگی  کی نپولین کو جانچنے کی پہلی تکنیک تھی کیو نکہ جس  بندے کی طلب اور شوق سچا  ہوتا ہے اسے معاوضے کی پروا نہیں ہوتی ۔
دوستی  کا مطلب  ہوتا ہے ایک طرح کا ذہن ،ا یک طرح کا سوچنا،  ایک طرح  ویثرن ، ایک  طرح  کی منزلیں، حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتےہیں "اگر ہم سفر ہم خیال ہو تو سات منزل تک جاتا ہے ۔" دنیا کے ہر بندے  کا ویثرن پروفیشن کے مطابق ہوتا ہے،  ٹیچر ز کا ویثرن ٹیچرز والا ہوتا ہے، طوائف کا ویثرن  طوائف والا ہوتا ہے،  بزنس مین کا ویثرن بزنس مین والا ہوتا ہے، کلرک کا ویثرن  کلرک والا ہوتا ہے وہ اس کے علاوہ  کچھ اور  نہیں سوچ سکتا اس کی وجہ ہے کہ ایک ہی کام کو بار بار کرنے سے ویثرن / چھٹی حس  بنتی ہے ۔ جس چھٹی حس بنتی ہے  تو اپنے کام کے تصورات کو بنانا آسان ہو جاتا ہے ۔اینڈریو چونکہ امریکہ  کا امیر ترین شخص تھا  اس لیے اس کی دوستیاں بھی امیر لوگوں کے ساتھ تھیں ۔ اینڈریو نے اپنا لیٹر پیڈ پکڑا اور تمام کامیاب  لوگوں کے نام ایک خط لکھ کر نپولین ہل کو دیا اور  کہا کہ ان پر تحقیق کرو،اس میں ایک خط ایڈیسن(سائنسدان) کے نام تھا، ایک خط برج سٹان (ٹائر کمپنی کا مالک) کے نام تھا، ایک  خط ہنرفورڈ (فورڈ موٹر  کا مالک) کے نام تھا اسی طرح اور جتنے بڑے لوگ تھے ان سب کا نام  خط تھا۔
نپولین ہل کی ساری تحقیق اس   وقت کے بڑے تائیکون  پہ ہوئی ۔ ہر وقت کا کامیاب شخص اگلے وقت کے کامیاب شخص  کو کاپی کرتا ہے ۔ نپولین ہل نے اپنی آدھی زندگی  اس تحقیق پر لگا دی   ، آدھی زندگی لگانے کے بعد  اس  نے  یہ کتاب (Think and Grow Rich)   "سو چئے اور امیر  ہو جائیے"  لکھی۔ جیسے  ہی  یہ کتاب  مارکیٹ میں  آئی  تو اس  کی کروڑوں  کاپیاں ہاتھوں ہاتھ بک گئیں  اس کی ہاتھوں  ہاتھ  بکنے کی وجہ یہ تھی  کہ  دنیا میں کامیابی کے موضوع پر  یہ پہلی  کتاب تھی۔
(Think and Grow Rich, Syed Qasim Ali Shah)