Thursday, November 24, 2016

منٹو نامہ

ب

آج میری زندگی میں اگر کوئی لفظ بچا ہے تو وہ ہے کاش۔ کاش میری صفیہ سے شادی نہ ہوئی ہوتی۔ ہو بھی جاتی تو کاش وہ پہلے لاہور پہنچ کر مجھے وہاں آنے پر مجبور نہ کرتی۔ مجبور کر بھی لیتی تو میری بات مان کر بمبئی دوبارہ جانے پر رضامند ہو جاتی۔ لیکن جب نہ چاہتے ہوئے ایک جغرافیے کے دو بدحواس ٹکڑے ہو جائیں۔ ان بدحواس ٹکڑوں کی کگر پر کھڑے میاں بیوی بھی یہ طے نہ کر پائیں کہ انہیں رہنا کہاں ہے اور اس دوران نزہت، نگہت اور نصرت بھی پیدا ہو جائیں تو کاش کا لفظ بھی اس مکے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو ہارنے کے بعد اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔

مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نہ ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا۔ کوئی اور صفیہ تو دکھاؤ جو مجھ جیسے آگ کے گولے کو اپنی ہتھیلیوں میں چھپا لے۔ کیا صابر عورت تھی ؟ کہاں طعنوں اور نشے سےچور پچیس روپے کا ایک کہانی فروش اور کہاں صفیہ ۔۔۔یہ دس روپے آپ کی بوتل کے، یہ پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس ۔۔۔اس میں گھر کا خرچہ چل جائےگا۔ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔میں ہوں نہ ۔۔۔

مگر میں آج تک اس سوال کے بھنور میں ہوں کہ صفیہ مجھے اسلامی جمہوریہ پاکستان آخر کیوں لائی۔ میرا یہاں کیا کام تھا؟ بھلا چمڑے کے بازار میں عطرفروشی اور نابینا سماج میں شمع فروشی کیونکر ممکن ہے۔ سنہ چالیس اور پچاس کے عشروں میں تو میں نے سماج کے ساتھ اور سماجی ٹھیکیداروں نے میرے ساتھ جو کیا سو کیا لیکن دورِ ایوبی میں تو الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب اینڈ کمپنی کے خوشامدی ناشروں نے میرے مسروقہ ایڈیشنز تک شیلف سے ہٹا دیے ۔مگر اس دوران بنگلہ رسالوں میں میری کہانیوں کے ترجمے خوب چھپے۔ اس وقت تو میں سمجھ نہیں پایا کہ بنگالیوں کو میری کہانیوں میں ایسا کیا نظر آگیا مگر اکہتر میں یہ بھی میری سمجھ میں آ گیا۔

انیس سو ستتر میں دو سانحے ہوئے۔میری صفیہ کا اس جہان سے جانا اور ضیا الحق کا آنا۔ ایک واقعہ نے مجھے یکسر تنہا کر دیا اور دوسرے نے اس تنہائی کو منجمد کر دیا۔ میں آج پینتیس برس بعد بھی یہ طے نہ کر پایا کہ دونوں میں سے کون سا المیہ زیادہ سنگین تھا۔

(وسعت اللہ خان کے کالم سالے منٹو بننا چاہتے ہیں! سے اقتباس)