Thursday, November 24, 2016

دعا




اگر آپ تہجد نہیں پڑھتیں کسی دعا کے لئے ‘ تو اس کا مطلب ہے آپ اس کو پانے کے لئے خود بھی سیرئیس نہیں ہیں۔ شدید پریشانی کے حالات میں دعائیں بھی شدید مانگنی ہو تی ہیں۔ یہ پانچ وقت کی نماز کے بعد روٹین کی طرح دعا مانگنا کافی نہیں ہوتا۔ جتنی بڑی آزمائش ہے ‘ اتنا زیادہ اپنی دعا کو بڑھائیں۔
’مگر یہ کیسے پتا لگے گا کہ یہ آزمائش ہے یا گناہوں کی سزا؟ یہ فرق کیسے معلوم کروں؟‘‘
’’معلوم کر کے کیا کریں گی؟ سزا ہوئی تو معافی مانگیں گی‘ آزمائش ہوئی تو دعا کریں گی کہ الله اس میں کامیاب کرے؟ مجھ سے پوچھیں تو یہ معلوم کرنا لا یعنی ہے۔ اس بحث کو چھوڑ دیں اور یہ دونوں کام کرتی رہیں۔آپ کو پتہ ہے الله تعالیٰ اپنے بندوں پہ آزمائش کیوں ڈالتا ہے؟‘‘
بھیگے چہرے کے ساتھ انھوں نے نفی میں سر ہلایا۔
’’بعض دفعہ کسی انسان کو الله تعالیٰ کوئی اونچا درجہ دے دیتا ہے ‘ مگر اس کے اعمال اتنے نہیں ہوتے کہ وہ اس درجے تک پہنچ جائے۔ یعنی وہ اچھا آدمی ہوتا ہے مگر بہت زیادہ نیکیاں نہیں کر پا رہا ہوتا۔ اور الله تعالیٰ نا انصافی تو نہیں کر سکتا نا‘ سو اس شخص کو اس درجے تک پہنچانے کے لئے...سمجھیں پہلی سیڑھی پہ کھڑے شخص کو دسویں سیڑھی تک پہنچانے کے لئے الله اس پہ پریشانیاں ڈالتا ہے ‘ تاکہ اس کے گناہ جھڑیں۔ ظاہر ہے گناہ کم ہو ں گے تو وہ اوپر اٹھتا جائے گا۔جس دن وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ اس کی آزمائش کھول دی جاتی ہے۔ یہ میری خود سے گھڑی بات نہیں ہے‘ یہ صحیح حدیث کا مفہوم ہے۔‘‘
’’مطلب کہ...یہ سب ہمیں کسی مقام تک پہنچانے کے لئے ہوتا ہے؟‘‘
’’جی۔ اب یہ آپ پہ ہے کہ آپ اس مقام تک کتنی جلدی پہنچتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں‘ تو جلدی زینے عبور کریں گی ‘ حدیث میں آتا ہے کہ انسان کو کوئی چیز ملنے والی ہوتی ہے کہ اس کے گناہ آڑے آ جاتے ہیں۔ اس لئے گناہوں سے بچیں‘ اور زیادہ سے زیادہ اچھے اعمال کریں۔ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ گشادگی کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ اس لئے اپنی کشادگی کاانتظار کرے
نمرہ احمد کے ناول نمل سے اقتباس