Thursday, June 23, 2016

غزوہ بدر

یوم بدر (سترہ رمضان المبارک)
غزوہ بدر مسلمانوں کی فتح و کامیابی کا دن جب اللہ تعالی نے کفار کے عزائم کو خاک میں ملا دیا اور مسلمانوں کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا۔ سورہ انفعال میں یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ درج ہے۔
.............................................
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ھیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی..!
فضائل اہل بدر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین
صحیح بخاری ومسلم میں حدیث مبارک ہے :
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔۔۔ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ.
ترجمہ:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے ایک صحابی سے متعلق ارشادفرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوئے ہیں‘ تمہیں کیا خبر!یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر توجہ خاص فرمائی ‘ارشاد فرمایاتم جو چاہو کرو‘ تمہارے لئے جنت واجب ہوچکی اور ایک روایت میں ہے کہ میں تم کو بخش دیا ہوں-
(صحیح بخاری، باب غَزْوَةِ الْفَتْحِ، حدیث نمبر: 4274 - صحیح مسلم، باب من فضائل أهل بدر رضى الله عنهم، حدیث نمبر:6557)
صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے :
عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ قَالَ مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - قَالَ وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلاَئِكَةِ .
ترجمہ:سیدنا معاذ بن رفاعہ ابن رافع رضی اللہ عنہ اپنے والدحضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ہے‘آپ نے فرمایا : حضرت جبریل امین علیہ السلام ‘حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضرہوکر عرض کئے : آپ حضرات اہل بدر کوکیسا شمار کرتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سب سے افضل ،یا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح کی اور بات ارشاد فرمائی‘حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا :اسی طرح فرشتوں میں وہ فرشتے افضل ہیں جو بدر میں حاضر ہوئے۔
(بخاری، باب شهود الملائكة بدرا، حدیث نمبر:3992)