Saturday, June 27, 2015

مرزا صاحباں. ... تاریخ کے حوالے سے. ..

داناباد کھرلوں کا گاؤں تھا۔ خدا کی کرنی سے کھرل سردار ونجھل کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام مرزا خان رکھا گیا۔ قریب قریب اسی دوران ایک دوسرے گاؤں میں کھیوا سردار ماہنی خان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام صاحباں رکھا گیا۔
کچھ روائتوں میں مرزا کی ماں ماہنی خان کی بہن بتائی جاتی ہے اور کچھ کہانیوں میں صاحباں کی ماں مرزا کی خالہ، اب یہ رشتہ ماں موسی کا تھا یا باپ بوا کا، بہرحال ماں کے انتقال کے بعد حالات کی کسی کروٹ نے مرزے کو صاحباں کے گھر رہنے کی غرض سے بھیج دیا۔
ہریانہ سے وینکوور اور فتح گڑھ سے وکٹوریہ تک، آج جب بھی اس کھیل کو پردے پہ پیش کیا جاتا ہے تو اس میں دو منظر ضرور شامل ہوتے ہیں۔
پہلا منظر ایک مکتب کا ہے جہاں مولوی صاحب، بچوں کو الف لکھنے کا کہتے ہیں اور صاحباں کی تختی پہ الف کی بجائے مرزا کا نام ابھرتا ہے۔
مولوی صاحب سزا کے طور پہ صاحباں کو بید مارتے ہیں تو نشان مرزا کی کمر پہ پڑتے ہیں۔ دوسرا منظر کڑاڑ کی ہٹی کا ہے جہاں صاحباں کے حسن سے مبہوت دوکاندار، ترازو کے سب بھاٹ بھاؤ بھول جاتا ہے اور تیل کی جگہ شہد تول دیتا ہے۔ بابا کہتے ہیں عورت کی خوبصورتی حیرت کا ایک لمحہ ہے، جس میں مرد، بس قید ہو جاتا ہے۔
عشق کی یہ داستان مدرسے کی مجلس سے نکلی، کوٹھوں چڑھی اور محلوں تک پہنچ گئی۔ مرزا اس دوران واپس دانا باد چلا گیا اور صاحباں کی نسبت کسی اور جگہ طے کر دی گئی۔
گھر میں شادی کے مہمانوں کی آمد لگی تو صاحباں نے کرموں باہمن کو بلایا اور مرزے کی دوستی کا واسطہ دے کر داناباد جانے کیلئے راضی کیا۔ مہندی لگے ہاتھوں سے لکھا ہوا یہ پیام مہندی لگی لکیروں کے خلاف تھا۔
کرموں منزلوں پہ منزلیں مارتا داناباد پہنچا اور مرزے کو بتایا کہ اگر دیر ہو گئ تو صاحباں کی مہندی کسی اور ہاتھ اترے گی۔ اس دن گھر میں ونجھل کی بیٹی کا بیاہ رچا تھا۔ بہن کی رخصتی سے پہلے مرزا نے رخصت ہونے کا فیصلہ کیا۔ بکی کو ایڑ لگی تو سارا گھر اکٹھا ہو گیا۔ ماں اور بہن نے واسطے بھی دئیے اور تاریخ کے حوالے بھی۔ مگر عشق ایک ایسا اندھا پن ہے جو حقیقتوں کو بصارتوں سے پرے کرنے پہ قادر ہے۔
مرزا، کھیووں کے گاؤں پہنچا تو بیبو سے مدد مانگی۔ رشتے کی اس خالہ نے رسی کی سیڑھی بنائی اور پھول کی شاخ ایسی صاحباں، سکھیوں کے کمرے سے گھوڑے کی پشت پہ آن ٹکی۔ ڈھولک کی اٹھتی تھاپ دھیرے دھیرے سموں کی گرتی ٹاپ میں گم ہو گئی۔
مرزا صاحباں کی یہ داستان، بکی کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ پیلو نے اس گھوڑی کا تعلق، حضرت علی کے دلدل، گگے چوہان کی ہک، راجہ رسالو کے نیلے، دلے بھٹی کی لکھی اور راجہ جے مل کے صندل سے جوڑا ہے۔
کچھ اور لکھنے والے، بکی کا سلسلہ دسویں گرو، گوبند سنگھ کے گھوڑے سے بھی جوڑتے ہیں اور کچھ کہانی کار، اب شاہی قلعے میں فرستادہ، رنجیت سنگھ کے گھوڑے کو بھی اسی نسل سے بتاتے ہیں۔
انہیں نسلوں کا بوجھ لئے بکی، معاملے کی نزاکت سے آشنا تھی لہٰذا اپنے سواروں کی سلامتی کی خاطر، اس نے پہلا پڑاؤ، داناباد کے نواح میں موجود بوڑھے برگد کے تلے جا کر ہی کیا۔
سختی، رزق اور چوٹ مقدر کی بات ہے، سو مرزا رک گیا اور داناباد کو سامنے دیکھ کر کھیووں سے مطمئن ہو گیا۔ اس کو گھر بھی نظر آ رہا تھا اور گھر سے اٹھنے والی بہن کی ڈولی بھی۔ یہ وہی بہن تھی جس نے جاتے جاتے، بکی کی راسیں تھام کر اسے سیالوں کی خطرناک عورتوں سے آگاہ کیا تھا۔
جاٹ بہنوں کے معاملے میں ڈرپوک واقع ہوتے ہیں، سو مرزے نے مناسب سمجھا کہ جب بارات جا چکے گی تو وہ رات کی تاریکی میں داناباد پہنچ جائے گا۔ اس کی آنکھ لگ گئی اور صاحباں جاگتی رہی۔
بوڑھا برگد خاموش ہوا تو گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دی۔ خان شہمیر کے گھوڑے دور سے پہچانے جاتے تھے اور سوار بھی انجان نہ لگتے تھے۔ سیالوں کی خطرناک عورت نے دم بھر کو سوچا کہ اگر یہ میرے بھائی ہوئے تو مرزا کے تیروں سے بچ نہیں سکیں گے اور کھیووں کی نسل، کھرلوں کے تیروں کی نذر ہو جائے گی۔ وہ ایسا نہیں چاہتی تھی سو اس نے کمان درخت سے لٹکا دی اور تیر توڑ دئے۔
بھائیوں کے گھوڑے عین سر پہ پہنچے تو صاحباں نے مرزے کو جگایا۔ مرزا کو اپنی تیر اندازی پہ بڑا مان تھا مگر جب تیر انداز کی نظر، ٹوٹے ہوئے تیر اور ٹنگی ہوئی کمان پہ پڑی تو اس کا دل ٹوٹ گیا ۔
اب کچھ کہتے ہیں کہ مرزا خان شہمیر کے تیروں سے پہلے صاحباں کی بے وفائی پہ جان ہار بیٹھا تھا اور کچھ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوصف جب تیر ترازو ہوئے تو مرتے ہوئے مرزے کے ہونٹوں پہ کلمہ نہیں بلکہ صاحباں کا نام تھا۔
بتیاں گل ہونے سے پہلے گرتی ہوئی صاحباں بھی نظر آتی ہے اور جس وقت پردے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، پیلو کے الفاظ سیدھے دل میں اترتے ہیں؛
مندا کیتوئی صاحبا، میرا ترکش ٹنگی او جنڈ سر توں منڈاسا اڈ گیا، گل وچ پیندی چنڈ باجھ بھراواں جٹ ماریا، کوئی نہ مرزے دے سنگ جٹا ای