Saturday, June 27, 2015

لاہوریوں سے معذرت کے ساتھ :)

ایک انگریز سیاح نے اردو زبان سیکھی۔ ایک دن وہ لاہور گیا اور ایک لاہوری سے پوچھا "کیا باغ جناح کو یہی سڑک جاتی ہے؟"
لاہوری بولا "آھو"
انگریز بہت پریشان ہوا کیونکہ اس نے یہ بولی پہلی بار سُنی تھی۔ اس نے ایک اور آدمی سے پوچھا تو اس نے بھی یہی جواب دیا۔
پھر اس نے تیسرے آدمی سے پوچھا "کیا باغ جناح کو یہی سڑک جاتی ہے؟"
اس آدمی نے جواب دیا "جی ہاں"
انگریز نے کہا "اچھا ٹھیک ہے۔ اب مجھے یہ بتاؤ کہ 'آھو' کا کیا مطلب ہے؟"
آدمی بولا "اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ در اصل پڑھے لکھے لوگ ' جی ہاں ' کہتے ہیں اور ان پڑھ 'آھو' کہتے ہیں۔"
انگریز بولا " اچھا تو آپ پڑھے لکھے ہیں۔"
آدمی بولا " آھو ".