Wednesday, May 22, 2013


کوئی اگر مر جائے تو

کڑی دھوپ میں چلتےچلتے
سایہ اگر مل جائے ۔۔۔ تو
اک قطرےکو ترستےترستے
پیاس، اگر بجھ جائے ۔۔۔ تو
برسوں سے خواہش کےجزیرے
ویراں ویراں اُجڑے ہوں
اور سپنوں کےڈھیر سجا کر
کوئی اگر رکھ جائے ۔۔۔ تو
بادل ،شکل بنائیں جب
نیل آکاش پہ رنگوں کی
اُن رنگوں میں اس کا چہرہ
آکے اگر رُک جائے ۔۔۔۔ تو
خاموشی ہی خاموشی ہو
دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتے کہتے گر
کوئی سب کہہ جائے ۔۔۔ تو
زندہ رہنا سیکھ لیا ہو
سارے دکھوں سے ہار کے جب
بیتے سپنے پا کےخوشی سے
کوئی اگر ۔۔۔ مرجائے ۔ ۔ ۔ تو ۔۔۔

ﺩﺍﻍ ﺩﮨﻠﻮﯼ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺧﻂ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺎ ﺍِﮎ ﺳﻼﻡ
ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺭﻗﯿﺐ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﻭﮦ ﻧﺎﻡ
ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ
ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺎﻡ
ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﻓﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ، ﻧﺒﺎﮨﯿﮟ ﮔﮯ، ﺑﺎﺕ
ﻣﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ، ﯾﮧ
ﮐﻼﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ
ﺩﺭﺩ ﺭﮨﺎ
ﻣﻘﯿﻢ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﻣﻘﺎﻡ ﮐﺲ
ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮫ ﮔﭽﮫ ﺗﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ
ﻭﮨﺎﮞ ﻧﮧ ﺁﺅ ﺑﮭﮕﺖ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ
ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺰﻡ ﺟﺴﮯ ﺳﻦ ﮐﮯ ﺭﮦ
ﮔﺌﯽ ﻣﺸﺘﺎﻕ
ﮐﮩﻮ، ﻭﮦ ﺗﺬﮐﺮۂ ﻧﺎﺗﻤﺎﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ
ﺗﮭﺎ
ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮧ، ﮐﮩﻮﮞ ﺗﻮ
ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ
ﺧﯿﺎﻝ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣِﺮﮮ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ
ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﮨﺮ ﺍﮎ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺩﺍﻍ
ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﻧﮑﻼ
ﯾﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ
ﻏﻼﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو!، میرے ہو نا!

میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا!

کان میں میں نے پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا!

روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
گنگناتی سی کو ئی شام مجھے بھیجو نا!

چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائیگی
تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا!

پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لے نیناں
کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

پا جانا ہے کھو جانا ، کھو جانا ہے پا جانا
بے ہوشی ہے ہشیاری ،ہشیاری ہے بے ہوشی

میں ساز حقیقت ہوں ، دمساز حقیقت ہوں
خاموشی ہے گویائی ، گویائی ہے خاموشی

اسرار محبت کا اظہار ہے نا ممکن
ٹوٹا ہے نہ ٹوٹے گا قفل در خاموشی

ہر دل میں تجّلی ہے اُن کے رخ روشن کی
خورشید سے حاصل ہے ذروں کو ہم آغوشی

جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے
جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی

یہ حسن فروشی کی دکان ہے یا چلمن
نظّارہ کا نظّارہ ہے ،روپوشی کی روپوشی

یاں خاک کا ذرہ بھی لغزش سے نہیں خالی
میخانۂ دنیا ہے یا عالم بے ہوشی

ہاں ہاں مرے عصیاں کا پردہ نہیں کھلنے کا
ہاں ہاں تیری رحمت کا ہے کام خطا پوشی

اس پردے میں پوشیدہ لیلائے دو عالم ہے
بے وجہ نہیں بیدم کعبے کی سیہ پوشی

بیدم شاہ وارثی

Tuesday, May 21, 2013

شام کے بعد


شام کے بعد

اتنا تو ہوتا نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد

ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے بعد
وقت ہوتا ہے عذابوں میں بسر شام کے بعد

میری آنکھوں سے برستے ہوئے دریائوں میں
ڈوب جاتی ہے تری راہ گزر شام کے بعد

تیرے بخشے ہوئے اندوہ کی گھبراہٹ کا
اور ہی رنگ سے ہوتا ہے اثر شام کے بعد

تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے
آن ملتے ہیں مجھے خاک بہ سر شام کے بعد

شاہ ہو کوئی، گدا ہو یا ولی ہو سب کا
فکر کے بوجھ سے جھک جاتا ہے سر شام کے بعد

مل کے اک شہر بھگو دیتے ہیں تنہائی کا
ایک میں ایک مرا دیدئہ تر شام کے بعد

گھیر لیتے ہیں مجھے رستے تری یادوں کے
جب بھی کرتا ہوں ترے بعد سفر شام کے بعد

دن بھی ویراں ہی گزرتا ہے ہمارا لیکن
اور بڑھ جاتا ہے ویرانی کا ڈر شام کے بعد

ہجر کے سائے تو ہر روز ہی آ جاتے ہیں
کیا کبھی ہو گا تمہارا بھی گزر شام کے بعد

ایک بس تم ہی نہیں رات کے گھائل فرحت
خاک اڑتی ہے ہماری بھی ادھر شام کے بعد....

لکهوں تو کس طرح لکهوں..

لکهوں تو کس طرح لکهوں..
بیاں کیسے کروں ان کو ..
کے وہ نا دیدہ و پنہاں..
بهرے الفت سے وہ جزبے..
میرے دل کے پاتالوں میں..
کسی قبر ندامت میں..
پڑے زندہ سے لاشے ہیں..

حیات ان کا مقدر تهی..
مگر
اس دور نا پرسان کی سنگلاخ چٹانیں..
چٹانیں ..بے رخی، جور و جفا و بے یقینی کی..
انہیں کچلے ہی رکهتی تهیں ..
ہمیشہ مسلتی رہتیں..

وہ جزبے صادقیں جزبے..
وہ جزبے پر خلوص و عشق و چاہت..
پیار کے جزبے..
بهلا کب تاب لاتے تهے..

بنا نالہء و گریا کے..
وہ کوئ گہری چپ سادهے..
کسی سکتے میں جا پہنچے..

علی .. وہ دل نشیں جزبے ..
بهلا پهر کب وہ جاگیں گے..
بهلا کب بهول پائیں گے ..
وہ سنگ و خشت کے تحفے..
بهلا کب پهر سے ابهریں گے ..
کسی ماہتاب کی صورت..
بهلا کب مہر ہ ماہ ان کو ..
نئی اک روشنی دیں گے...

وہ تاریکی کی دنیا میں ..
بہت آباد ہیں مر کر ..
نہ اب وہ درد سہتے ہیں ..
نہ اب وہ بین کرتے ہیں..
انہیں تم دفن رہنے دو ..

کہ اب اس آشنا سی بزم کے منظر ..
تو پہلے سے بهیانک ہیں..
کہ اب کے اجل پہلے سے بهی زیادہ..
بے رحم ہو گی..
انہیں جنجهوڑ دے گی .. چور کر دے گی .. مٹا دے گی..
علی تم دفن رہنے دو..
انہیں مردہ ہی رہنے دو ....

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا


روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو!، میرے ہو نا!

میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا!

کان میں میں نے پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا!

روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
گنگناتی سی کو ئی شام مجھے بھیجو نا!

چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائیگی
تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا!

پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لے نیناں
کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا