Tuesday, May 21, 2013

لکهوں تو کس طرح لکهوں..

لکهوں تو کس طرح لکهوں..
بیاں کیسے کروں ان کو ..
کے وہ نا دیدہ و پنہاں..
بهرے الفت سے وہ جزبے..
میرے دل کے پاتالوں میں..
کسی قبر ندامت میں..
پڑے زندہ سے لاشے ہیں..

حیات ان کا مقدر تهی..
مگر
اس دور نا پرسان کی سنگلاخ چٹانیں..
چٹانیں ..بے رخی، جور و جفا و بے یقینی کی..
انہیں کچلے ہی رکهتی تهیں ..
ہمیشہ مسلتی رہتیں..

وہ جزبے صادقیں جزبے..
وہ جزبے پر خلوص و عشق و چاہت..
پیار کے جزبے..
بهلا کب تاب لاتے تهے..

بنا نالہء و گریا کے..
وہ کوئ گہری چپ سادهے..
کسی سکتے میں جا پہنچے..

علی .. وہ دل نشیں جزبے ..
بهلا پهر کب وہ جاگیں گے..
بهلا کب بهول پائیں گے ..
وہ سنگ و خشت کے تحفے..
بهلا کب پهر سے ابهریں گے ..
کسی ماہتاب کی صورت..
بهلا کب مہر ہ ماہ ان کو ..
نئی اک روشنی دیں گے...

وہ تاریکی کی دنیا میں ..
بہت آباد ہیں مر کر ..
نہ اب وہ درد سہتے ہیں ..
نہ اب وہ بین کرتے ہیں..
انہیں تم دفن رہنے دو ..

کہ اب اس آشنا سی بزم کے منظر ..
تو پہلے سے بهیانک ہیں..
کہ اب کے اجل پہلے سے بهی زیادہ..
بے رحم ہو گی..
انہیں جنجهوڑ دے گی .. چور کر دے گی .. مٹا دے گی..
علی تم دفن رہنے دو..
انہیں مردہ ہی رہنے دو ....