Wednesday, May 22, 2013


کوئی اگر مر جائے تو

کڑی دھوپ میں چلتےچلتے
سایہ اگر مل جائے ۔۔۔ تو
اک قطرےکو ترستےترستے
پیاس، اگر بجھ جائے ۔۔۔ تو
برسوں سے خواہش کےجزیرے
ویراں ویراں اُجڑے ہوں
اور سپنوں کےڈھیر سجا کر
کوئی اگر رکھ جائے ۔۔۔ تو
بادل ،شکل بنائیں جب
نیل آکاش پہ رنگوں کی
اُن رنگوں میں اس کا چہرہ
آکے اگر رُک جائے ۔۔۔۔ تو
خاموشی ہی خاموشی ہو
دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتے کہتے گر
کوئی سب کہہ جائے ۔۔۔ تو
زندہ رہنا سیکھ لیا ہو
سارے دکھوں سے ہار کے جب
بیتے سپنے پا کےخوشی سے
کوئی اگر ۔۔۔ مرجائے ۔ ۔ ۔ تو ۔۔۔