Tuesday, May 21, 2013

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا


روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو!، میرے ہو نا!

میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا!

کان میں میں نے پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا!

روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
گنگناتی سی کو ئی شام مجھے بھیجو نا!

چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائیگی
تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا!

پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لے نیناں
کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا