Tuesday, May 21, 2013

شام کے بعد


شام کے بعد

اتنا تو ہوتا نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد

ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے بعد
وقت ہوتا ہے عذابوں میں بسر شام کے بعد

میری آنکھوں سے برستے ہوئے دریائوں میں
ڈوب جاتی ہے تری راہ گزر شام کے بعد

تیرے بخشے ہوئے اندوہ کی گھبراہٹ کا
اور ہی رنگ سے ہوتا ہے اثر شام کے بعد

تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے
آن ملتے ہیں مجھے خاک بہ سر شام کے بعد

شاہ ہو کوئی، گدا ہو یا ولی ہو سب کا
فکر کے بوجھ سے جھک جاتا ہے سر شام کے بعد

مل کے اک شہر بھگو دیتے ہیں تنہائی کا
ایک میں ایک مرا دیدئہ تر شام کے بعد

گھیر لیتے ہیں مجھے رستے تری یادوں کے
جب بھی کرتا ہوں ترے بعد سفر شام کے بعد

دن بھی ویراں ہی گزرتا ہے ہمارا لیکن
اور بڑھ جاتا ہے ویرانی کا ڈر شام کے بعد

ہجر کے سائے تو ہر روز ہی آ جاتے ہیں
کیا کبھی ہو گا تمہارا بھی گزر شام کے بعد

ایک بس تم ہی نہیں رات کے گھائل فرحت
خاک اڑتی ہے ہماری بھی ادھر شام کے بعد....